مریخ پر مبہم ارضیاتی پرتوں کی نشاندہی

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 12:35 GMT 17:35 PST

مریخ پر اتاری جانے والی ناسا کی روبوٹک گاڑی کیوروسٹی کے سو ایم ایم ٹیلی فوٹو لینز کی مدد سے کھینچی گئی تصاویر میں مبہم ارضیاتی پرتوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس روبوٹک گاڑی کے اصل ہدف ’ماؤنٹ شارپ‘ کی بھی رنگین پینوراما تصویر بھی شائع کی ہے اور پیر کو اس گاڑی نے کسی دیگر سیارے پر کی گئی پہلی صوتی ریکارڈنگ بھیجی تھی۔

تاہم ان تشہیری کاموں کے ساتھ ساتھ کیوروسٹی جسے مریخ سائنسی تجربہ گاہ بھی کہا جاتا ہے اس سرخ سیارے پر اس مشن کے لیے اپنی آلات کو تیار کر رہی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹک گاڑی خلائی ادارے کے پاس اس سے قبل مریخ کے بارے میں موجود معلومات سے زیادہ ڈیٹا بھیج چکی ہے۔

کیوروسٹی کو تقریباً تین ہفتے پہلے مریخ پر اتارا گیا تھا۔ اس مشن کو خلائی تاریخ کا ایک انتہائی جرات مندانہ مشن قرار دیا جاتا ہے اور یہ ایک ٹن وزنی گاڑی سیارے پر اپنے دو سالہ قیام کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ آیا کبھی مریخ پر زندگی کے آثار موجود تھے یا نہیں۔

اس مشن کا کلیدی مقصد مریخ کے جنوبی علاقے میں واقع ’ماؤنٹ شارپ‘ کے نام سے معروف پہاڑ کی چوٹی کے دامن تک اس روبوٹک گاڑی کو پہنچانا اور وہاں موجود چٹانوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس چوٹی کا دامن کیوروسٹی کے موجودہ مقام سے ساڑھے چھ کلومیٹر دور ہے اور وہاں پہنچنے میں ایک سال لگ سکتا ہے۔

اس وقت روبوٹک گاڑی مریخ کی سطح پر پڑنے والے اس کرین کے نشانات کا جائزہ لے رہی ہے جس کی مدد سے اس گاڑی کو اتارا گیا تھا۔

اس تجزیے کے بعد کیوروسٹی ایک مخصوص آلے کی مدد سے مریخ کی سطح میں ہائیڈروجن اور ایسی ہائیڈروکسل والی معدنیات کی شرح کا جائزہ لے گی جس سے ماضی میں اس سیارے پر پانی کی موجودگی کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ اس تجربہ گاہ میں ایک کیمیائی کیمرہ بھی موجود ہے جو لیزر کی مدد سے کسی بھی چٹان کو بخارات میں تبدیل کر کے ان کا کیمیائی تجزیہ کر سکتا ہے۔

تاہم اب تک ناسا کے سائنسدانوں کے لیے سب سے دلچسپ چیز وہ مبہم شے ہے جو کیوروسٹی کی جانب سے بھیجی گئی ماؤنٹ شارپ کی تصاویر میں موجود ہے۔ اس تصویر میں سفید نقطے دو مختلف ارضیاتی پرتوں کو الگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

روبوٹک گاڑی کے مرکزی کیمرہ نے اس منقسم علاقے کی تصویر لی ہے جو کہ زمین کی اس سطح سے ملتی جلتی ہے جو آتش فشانی یا زلزلوں کا نشانہ بنتی رہی ہو۔

ان تصاویر سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ماؤنٹ شارپ کے دامن میں ایسی گاد موجود ہے جس میں موجود معدنیات پانی کی موجودگی میں بنی تھیں لیکن اس گاد کی اوپری تہہ میں ان معدنیات کا اثر موجود نہیں۔

ماؤنٹ شارپ کے دامن کی جانب سفر کے دوران کیوروسٹی کا اگلا پڑاؤ مشرق میں چار سو میٹر کی جانب گلینلگ نامی مقام ہوگا جو بظاہر تین مختلف ارضیاتی خطوں کا چوراہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔