غیرمعمولی بلیک ہول اور کہکشاؤں کی دریافت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST
وائز سے لی گئی تصویر

دوربین وائز ایسی کہکشاؤں کو دیکھ سکتی ہے جو پہلے نظروں سے اوجھل تھے

امریکی خلائی ادارے ناسا کی انفراریڈ دوربین ’وائز‘ نے ایسے خلائی اجسام کا انکشاف کیا ہے جو اس سے قبل خلائی دھول کے پیچھے اوجھل تھے۔

عام دوربینیں روشنی کی شعاعیں دیکھتی ہیں، لیکن ان کے برعکس وائز حرارت کی لہریں دیکھ سکتی ہے۔ اب اس کی بدولت کائنات کے روشن ترین اجسام کی نشان دہی ہوئی ہے۔

اس دریافت سے ماہرینِ فلکیات کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ کہکشائیں اور بلیک ہول کس طرح تشکیل پاتے ہیں۔

اکثر کہکشاؤں کے مرکز میں ایک بلیک ہول ہوتا ہے، تاہم مختلف بلیک ہولز کی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قریبی گیس، خلائی دھول اور ستاروں کو ہڑپ کرتے ہیں، جب کہ بعض اتنی بڑی مقدار میں توانائی خارج کرتے ہیں کہ آس پاس ستاروں کی تشکیل کا عمل ہی کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔

لیکن کہکشاؤں اور بلیک ہول دونوں کی اکٹھی نشوونما کیسے ہوتی ہے؟ یہ سوال اب تک ایک راز کا درجہ رکھتا تھا۔ وائز سے موصولہ تازہ ترین تصاویر کی مدد سے اس راز سے پردہ اٹھنا شروع ہو گیا ہے۔

وائز کی دریافتوں میں سے ایک اہم دریافت ایک ’ٹروجن‘ سیارچہ ہے جسے اس نے دو ہزار گیارہ میں دریافت کیا تھا۔ تاہم حالیہ دریافتوں کے بعد وائز بلیک ہولز کے بے مثال کھوجی کے روپ میں سامنے آئی ہے۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے ڈینیئل سٹرن کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بلیک ہولز کو قابو میں کر لیا ہے۔‘

ڈاکٹر سٹرن اور ان کے ساتھیوں نے وائز کے ڈھونڈے ہوئے بلیک ہولز سے نکلنے والی ایکس ریز کا ’نوسٹار‘ نامی دوربین کی مدد سے معائنہ کیا۔ اس تحقیق کے نتائج ایسٹروفزیکل نامی جریدے میں شائع کیے گئے۔

وہ کہتے ہیں ’وائز تمام آسمان میں بلیک ہول ڈھونڈ نکالتی ہے، جب کہ نوسٹار ان سے نکلنے والی ایکس ریز کو پرکھتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہو رہا ہے کہ یہ بلیک ہول کس طرح کام کرتے ہیں۔‘

"یہ گردآلود، تلاطم خیز طریقے سے معرضِ وجود میں آنے والی کہکشائیں اتنی کمیاب ہیں کہ وائز کو ان کی کھوج کے لیے تمام آسمان کی خاک چھاننا پڑی۔"

ماہرِ فلکیات

اسی قسم کے دوسرے سائنسی جائزوں میں ایسی گرم اور روشن کہکشاؤں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو اب تک نگاہوں سے پوشیدہ تھیں۔

اب تک ایسی تقریباً ایک ہزار کہکشائیں ملی ہیں۔ ان میں سے کچھ ہمارے سورج سے ایک ہزار کھرب گنا زیادہ روشن ہیں۔

جیٹ پروپلشن لیبارٹری ہی کے پیٹر آئزن ہارٹ ان کہکشاؤں کے بارے میں کہتے ہیں ’یہ گردآلود، تلاطم خیز طریقے سے معرضِ وجود میں آنے والی کہکشائیں اتنی کمیاب ہیں کہ وائز کو ان کی کھوج کے لیے تمام آسمان کی خاک چھاننا پڑی۔‘

انہوں نے کہا ’ہمیں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کہکشاؤں کے اندر ستاروں کا مجموعہ تشکیل پانے سے پہلے ہی بلیک ہول بن گئے تھے۔ (ایسا لگتا ہے کہ) انڈے مرغی سے پہلے ہی پیدا ہو گئے۔‘

وائز سے حاصل کردہ تحقیقات کے نتائج تک رسائی عام ہے، اس لیے اس پر کام کرنے والی ٹیم کے علاوہ باہر کے لوگ بھی استفادہ کر سکتے ہیں اور ان پر اپنی تحقیق کر سکتے ہیں۔ اس سے کائنات کے سربستہ گوشوں کو منظرِ عام پر لانے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔