مہلک وائرس سے ہزاروں امریکیوں کو خطرہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 ستمبر 2012 ,‭ 13:41 GMT 18:41 PST

حکام کے مطابق ہینٹا وائرس اب تک دو افراد کی جان لے چکا ہے اور انہیں ہزاروں خوفزدہ سیاحوں کی کالیں موصول ہو رہی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ریاست کیلیفورنیا کے یوسو مائٹ نیشنل پارک میں خیموں میں چھٹیاں گزارنے والے دس ہزار امریکیوں کو ایک مہلک ’ہینٹا وائرس‘ سے خطرہ ہو سکتا ہے۔

حکام کے مطابق یہ وائرس اب تک دو افراد کی جان لے چکا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہزاروں خوفزدہ سیاحوں کی کالیں موصول ہو رہی ہیں جو اس بات سے پریشان ہیں کہ کہیں انہیں بھی یہ وائرس تو نہیں لگا۔

ہنٹا وائرس پھیپھڑوں کی ایک نایاب مرض ہے اور اس کا شکار ہونے والے چار مزید مریضوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یوسومائٹ نیشنل پارک نے سیاحوں کی مدد کے لیے ایک ہاٹ لائن جاری کی ہے اور پارک کی انتظامیہ کے مطابق انہیں روزانہ ایک ہزار سے زائد پریشان افراد کی کالیں موصول ہو رہی ہیں۔

اس وائرس کا کوئی معلوم علاج نہیں ہے اور یہ جراثیم زدہ چوہوں کے فضلے، پیشاب اور لعاب میں پایا جاتا ہے۔

فضلے، پیشاب اور لعاب کے سوکھنے پر اس کے اثرات ہوا میں شامل ہوتے جو انسانی پھیپھڑوں میں سانس کے ذریعے چلے جاتے ہیں اور اس بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

اس کی علامات چھ ہفتے تک سامنے آسکتی ہیں اور ایک تہائی افراد جن کو یہ وائرس لگتا ہے اس سے نہیں بچ پاتے۔

یہ مرض اس وائرس سے متاثرہ اشیاء کو چھونے، کھانے اور اس سے متاثرہ جانور کے کاٹنے سے بھی لاحق سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں واقع ہونے والی پہلی ہلاکت اگست کے ابتداء میں ہوئی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں سان فرانسسکو کے بے ایریا سے تعلق رکھنی والی ایک سینتیس سالہ خاتون بھی شامل ہیں۔

اس وائرس کے پھوٹنے کی وجوہات کے بارے میں خیال کا جا رہا ہے کہ یہ یوسومائٹ میں کری گاؤں میں ایک خیمہ گاہ میں چوہوں کے افزائش کی ایک بل میں ہوئی۔ چوہوں نے یہ پناہ گاہ ایک خیمے کو سردی سے محفوظ رکھنے والی انسولیشن میں بنائی تھی۔

"اس وقت جمعہ کے حساب سے معمول کے مطابق لوگ ہیں۔ ہاں کچھ لوگوں نے اپنی بکنگ منسوخ کیں ہیں مگر یہ کہنا کہ بہت بڑی تعداد میں منسوخیاں ہوئی ہیں مبالغہ ہوگا۔ ابھی بھی کافی لوگ ہیں وہاں پر۔ ابھی بھی گرمیاں ہیں اور چھٹیوں کے موسم کا آخر ہفتہ ہے جس کی مناسبت سے لوگ بھی اسی طرح ہی آئے ہوئے ہیں۔"

یوسومائٹ پارک کے ترجمان کاری کوب

امریکہ کے مرکز برائے انسداد امراض یا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن کا اندازہ ہے کہ تقریباً دس ہزار افراد اب تک اس خیمہ گاہ میں جون اور اگست کے دوران چھٹیاں گزار چکے ہیں اور انہیں اس وائرس کے لگنے کا خطرہ ہے۔

امریکہ کے مرکز برائے انسداد امراض کی لولا رسل نے کہا کہ ان کا ادارہ مختلف ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اس وبا سے نپٹنے کے لیے ’مختلف علاقوں کے صحت کے شعبوں‘ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

لولا رسل نے ڈاکٹروں سے استداء کی کہ وہ ہینٹا وائرس کے تشخیص شدہ مریضوں کے بارے میں ریاستی صحت کے اداروں کو آگاہ کریں۔

پارک نے اپنی طرف سے تین ہزار افراد کے گروپس سے رابطہ کر کے انہیں مشورہ دیا ہے اگر انہیں فلو، سر یا پٹھوں کے درد، سانس لینے میں دشواری اور کھانسی کی علامات ہوں تو وہ فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کریں۔

اس ہفتے کے آغاز میں پارک کے حکام نے تمام اکانوے کیبنز کو بند کر دیا تھا جن میں ڈئر قسم کے چوہے پائے گئے تھے جن میں یہ وائرس پایا جاتا ہے۔ ان چوہوں نےکیبنز کی دہری دیواروں کے درمیان آشیانے بنائہ ہوئے تھے۔

لیکن پارک کے حکام کا کہنا تھا کہ اس سارے کے باوجود پارک میں کیبن حاصل کرنے والوں نے بڑی تعداد میں منسوخیاں نہیں کیں۔

یوسومائٹ کے ترجمان کاری کوب کے مطابق ’اس وقت جمعہ کے حساب سے معمول کے مطابق لوگ ہیں۔ ہاں کچھ لوگوں نے اپنی بکنگ منسوخ کی ہیں مگر یہ کہنا کہ بہت بڑی تعداد میں منسوخیاں ہوئی ہیں مبالغہ ہوگا۔ ابھی بھی کافی لوگ ہیں وہاں پر۔ ابھی بھی گرمیاں ہیں اور چھٹیوں کے موسم کا آخر ہفتہ ہے جس کی مناسبت سے لوگ بھی اسی طرح ہی آئے ہوئے ہیں‘۔

سالانہ تقریباً چالیس لاکھ افراد یوسومائٹ نیشنل پارک میں سیاحت کے لیے آتے ہیں اور ان میں سے ستر فیصد یوسومائٹ وادی میں آتے ہیں جہاں یہ گاؤں کری واقع ہے۔

اس سے پہلے دو ہزار اور دو ہزار دس میں بھی پارک میں ہینٹا وائرس کے دو عدد مریض سامنے آئے تھے لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس وائرس کی نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔