سٹرائیکر ہیلمٹ: پائیلٹ کے لیے ایکس رے وژن

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 21:56 GMT 02:56 PST

جب یورو فائٹر ٹائفون کا پائلٹ نیچے دیکھتا ہے تو اس کو سرمئی زمین نظر نہیں آتی بلکہ اس کو بادل اور شاید بھیڑ بکریاں نظر آتی ہیں۔

اس پائلٹ کو اگر زمین پر یا فضا ہی میں دشمنوں کا کھوج لگانا ہے تو اس کو اس کے لیے جہاز کو اس رخ موڑنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

وہ صرف اس جانب دیکھے گا اور اس بات کا خیال رکھے گا اس کی ہیلمٹ پر بنا نشان ہدف پر ہو اور پھر فائر کا بٹن دبا دینا ہے۔

یہ سب کیسے ممکن ہے؟ اس پائلٹ نے برطانوی دفاعی کمپنی بی اے ای کی جدید ہیلمٹ پہن رکھی ہے۔

جہاز پر نصب تمام کیمرے وائر لیس کے ذریعے اس ہیلمٹ کے ساتھ منسلک ہیں۔ پائلٹ جس سمت بھی دیکھتا ہے کیمروں کا نظام اس کی ہیلمٹ پر اس طرف کا منظر ریئل ٹائم میں دکھا دیتا ہے۔

دنیا بھر کی فوجوں نے ہیلمٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے کا استعمال نوے کی دہائی میں کیا۔ اور اس کے بعد سے یہ ہیلمٹ میں جدت لائی جا رہی ہے۔

بی اے ای کمپنی کے ایلن جوئٹ کا کہنا ہے ’سٹرائیکر ہیلمٹ پہنے ہوئے پائلٹ کو جب زمین پر کچھ نظر آتا ہے تو اس کو صرف اس سمت دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہیلمٹ پر لگے نشان کو اس شے پر لے کر آئے اور بٹن دبائے۔ اور اس شے کے کوآرڈینیٹس اس کو مل جائیں گے۔ پائلٹ پھر اپنے سنسرز، کیمرے یا ہتھیار اس شے کی جانب موڑ سکتا ہے۔‘

مختلف ممالک کے پائلٹ سٹرائیکر ہیلمٹ کا استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کا ابھی تک استعمال میدانِ جنگ میں نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔