فیس بک کی حریف سلام ورلڈ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 5 ستمبر 2012 ,‭ 05:46 GMT 10:46 PST

نومبرمیں سائٹ دنیا بھر میں استعمال کے لیے دستیاب ہو گی

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کی انٹرنینشل اسلامک یونیورسٹی میں ایک روسی طالبہ جحان جعفر نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر ویڈیو شائع کی تو اس پر ترک زبان میں رائے کا اظہار کیا گیا۔

جحان جعفر یہ زبان بولنا نہیں جانتی تھیں لیکن انہوں نے ویڈیو کے صفحے پر موجود ترجمے کی سہولت کی مدد سے اس رائے کا جواب دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’سلام ورلڈ‘ پر یہ ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ویب سائٹ کو امید ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ملانے اور رابطوں کو آسان بنایا جا سکے گا۔

ملائیشیا میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور اس میں ساٹھ فیصد کے قریب انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

ملائیشیا کے علاوہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ سلام ورلڈ کا تجرباتی ٹیسٹ اس وقت بوسنیا، ترکی، مصر اور انڈونیشیا میں موجود ایک ہزار صارفین کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور نومبرمیں سائٹ دنیا بھر میں استعمال کے لیے دستیاب ہو گی۔

ویب سائٹ کی پہلی جھلک سے یہ سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس کی طرح ہی نظر آتی ہے۔

نیلی اور سفید وضع قطع اور وال پر پیغامات لکھنے، تصاویر اور ویڈیوز شائع کرنے جیسی خصوصیات سماجی رابطے کی مقبول ویب سائٹ فیس بک کی ابتدائی خصوصیات سے ملتی جلتی ہیں۔

لیکن کثیر الثقافتی اور کثیراللسان منصوبے کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ پر موجود مواد ان میں تفریق کرے گا۔

سلام ورلڈ کا مقصد مسلمانوں کو ایک محفوظ جگہ فراہم کرنا ہے جہاں پر توہین مذہب، جوئے سمیت اسلامی اصولوں کے خلاف کسی قسم کا مواد موجود نہ ہو۔

انٹرنیٹ انفارمیشن کمپنی ایلکسیا کے مطابق فیس بیک ان تمام ممالک میں بے حد مقبول ہے جہاں پر ان دنوں مسلم ورلڈ تجربے کر رہی ہے

اسلامک انٹرنینشل یونیورسٹی کی پروفیسرنورالعین مٹ داؤد جو تعلیمی مقاصد کے لیے سماجی رابطوں کی مغربی ویب سائٹ کا استعمال کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان ویب سائٹس پر خواتین کے کپڑے اتارنے جیسے اشتہارات انہیں بہت ناگوار لگتے ہیں۔

اگرچہ فحش مواد کے بارے میں فیس بک کی پالیسی بہت سخت ہے لیکن ویب سائٹ پر جوئے کے حوالے سے کئی ایپلیکشن دستیاب ہیں۔

ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ مسلم دنیا کے لیے ایک ویب سائٹ تیار کی گئی ہے اس سے پہلے بھی کوششیں کی گئی ہیں لیکن وہ زیادہ کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
فن لینڈ کی مسلم ڈاٹ کام(Muxlim.com) اس وقت بند ہو چکی ہے۔ اسی طرح سے مصر کی جماعت اخوان المسلمین نے اخوان بک ڈاٹ کام کے نام سے ایک ویب سائٹ شروع کی تھی اور یہ بھی اس وقت بند ہو چکی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ویب سائٹس کا ہدف علاقائی صارفین تھے یا یہ اپے خطے تک محدود تھیں۔سلام ورلڈ ترکی سے شروع کی جا رہی ہے لیکن اس کے اصلاح کاروں کا تعلق بارہ سے زیادہ ممالک سے ہے۔

ویب سائٹ کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحد کرنا ہے اور اس پر مواد کی جانچ پڑتال کرنے کے لیےتین سطحی فلٹر موجود ہونگے۔

اس کی مدد سے حکام کو مدد ملے گی کہ وہ اسلام کی مختلف تشریحات کے حوالے سے مواد کا ہدایت نامہ تشکیل دے سکیں گے۔

مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ ایک خوتون کی حجاب کے بغیر تصویر سیکولر انڈونیشیا میں قابل قبول ہو لیکن قدامت پسند ملک سعودی عرب میں ایسا نہ ہو۔

ویب سائٹ کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کو متحد کرنا ہے

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ انٹرنیٹ پر اس طرح کی سنسر شپ پر صارفین کا خاص طور پرملائیشیا میں کیا ردعمل ہو گا۔

یہاں رواں ماہ کے آغاز پر سیاست دانوں اور کارکنوں نے انٹرنیٹ کے استعمال کے قوانین میں تبدیلی کے خلاف ایک دن کے لیے انٹرنیٹ کا بائیکاٹ کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ قوانین کا مقصد آزادی رائے کو محدود کرنا ہے۔

تاہم کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ بعض پابندیوں کو برداشت کر سکتے ہیں، جیسا کہ ویب سائٹ پر شراب کے اشہارات کو بند کرنا کیونکہ یہ اسلامی اقدار کے خلاف ہے۔

ایک طالب علم عبدل ہادی بن حاجی کے مطابق’ اگر سیاسی مقاصد کے لیے چزوں کو سنسرشپ کیا جائے گا، مثال کے طور پر شام میں اصل صورتحال، برما میں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات کے بارے میں جاننے کے روکا جائے تو یہ ٹھیک نہیں ہو گا۔

ماہرین کے مطابق اگر دنیا بھر میں مسلمان مسلم ورلڈ کا بڑے پیمانے پر استعمال شروع بھی ہو جائے تو پھر بھی اس کا فیس بک کی حریف بننا مشکل ہو سکتا ہے۔

انٹرنیٹ انفارمیشن کمپنی ایلکسیا کے مطابق فیس بیک ان تمام ممالک میں بے حد مقبول ہے جہاں پر ان دنوں مسلم ورلڈ تجربے کر رہی ہے۔

مثال کے طور پر ملائیشیا میں بہت سارے صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے دوستوں کو فون کرنے کی بجائے فیس بک کے ذریعے ان سے رابطہ کرنا آسان لگتا ہے۔

تاہم مسلم ورلڈ کے ایشیا پیسفک کے سربراہ سلام سلیمانوف کو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے کیونکہ ان کے خیال میں ایک متبادل کی اشد ضرورت ہے۔

’اگر ہم ایک ارب پچاس کروڑ مسلمانوں کی بات کرتے ہیں تو ان میں سے ہو سکتا ہے میرے موقف کی حمایت کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہو لیکن پھر بھی عددی اعتبار سے یہ تعداد بہت بڑی ہو گی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔