کام کا دباؤ دل کے لیے خطرناک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 12:42 GMT 17:42 PST

کسی بھی قسم کی نوکری دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، تاہم کم تربیت یافتہ ملازم زیادہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

برطانوی سائنس دانوں نے معلوم کیا ہے کہ ایسی نوکری مہلک ثابت ہو سکتی ہے جس میں کام کا دباؤ زیادہ ہو اور ملازم کا اس پر اختیار نہ ہو۔

سائنس دانوں نے تیرہ یورپی تحقیقات کا تفصیلی جائزہ لیا جن میں دو لاکھ کے قریب ’کام کے دباؤ‘ کے شکار افراد میں دل کے دورے اور دل کی دوسری بیماریوں سے موت کے خطرے میں تیئس فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تاہم طبی جریدے لانسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کام کے دباؤ سے دل کو لاحق خطرہ سگریٹ پینے یا ورزش نہ کرنے کے مقابلے میں کہیں کم ہوتا ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے کہا کہ اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ لوگ کام کے دباؤ سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج آف لندن کی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی نوکری دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، تاہم کم تربیت یافتہ ملازم زیادہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کو دن بھر کئی اہم فیصلے کرنا ہوتے ہیں، لیکن ان کے کام کا دباؤ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور سے کم ہوتا ہے۔

اس سے پہلے کام کے دباؤ کے دل پر اثر کے بارے میں متضاد شواہد سامنے آئے تھے۔

حالیہ تحقیق میں سائنس دانوں نے تیرہ مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا۔ہر تحقیق کے آغاز پر لوگوں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا انھیں کم وقت میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، اور یہ کہ انھیں فیصلے کرنے کی کس حد تک آزادی ہے۔

اس کے بعد شرکا دو حصوں میں بانٹا گیا، ایک وہ جن پر کام کا دباؤ تھا اور دوسرے وہ جن پر دباؤ نہیں تھا۔ اس کے بعد ساڑھے سات سال تک ان کا مشاہدہ کیا گیا۔

تحقیق کار میکا کیوی ماکی کہتے ہیں: ’نتائج سے ظاہر ہوا کہ کام کے دباؤ سے دل کی بیماری کے پہلے حملے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘

تحقیق دانوں نے کہا کہ کام کا دباؤ ختم کرنے سے اس خطرے میں تین اعشاریہ چار فیصد کی کمی واقع ہوتی ہے، جب کہ اس کے مقابلے پر تمباکو نوشی ترک کرنے سے خطرے میں چھتیس فیصد کمی ہوتی ہے۔

"کام کا دباؤ ناگزیر ہوسکتا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ اس دباؤ کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں۔ سگریٹ سلگا لینا دل کے لیے بری خبر ہے۔ متوازن خوراک کھانے، باقاعدگی سے ورزش کرنے اور سگریٹ نوشی چھوڑ دینے سے کام کے دباؤ کے منفی اثرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔"

پروفیسر پیٹر وائزبرگ

پروفیسر کیوی ماکی کہتے ہیں کہ کام کے دباؤ کے دل پر براہِ راست اثر کے شواہد ملے جلے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کام کے دباؤ کا تعلق زندگی کے دوسرے معاملات سے بھی ہے جو دل پر مضر اثر ڈالتے ہیں۔’ہم جانتے ہیں کہ کام کے دباؤ میں مبتلا سگریٹ نوش زیادہ سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ جو لوگ ورزش کرتے ہیں وہ ورزش چھوڑ دیتے ہیں۔‘

’اگر آپ کام کے دباؤ کا شکار ہیں تب بھی صحت مندانہ طرزِ زندگی اپنا کر صحت کو لاحق خطرے میں کمی لا سکتے ہیں۔‘

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر پیٹر وائزبرگ کہتے ہیں کہ کام کا دباؤ ناگزیر ہوسکتا ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ آپ اس دباؤ کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں۔ سگریٹ سلگا لینا دل کے لیے بری خبر ہے۔ متوازن خوراک کھانے، باقاعدگی سے ورزش کرنے اور سگریٹ نوشی چھوڑ دینے سے کام کے دباؤ کے منفی اثرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔