’تحفظ حیات کا بے مثال نمونہ‘

آخری وقت اشاعت:  پير 17 ستمبر 2012 ,‭ 15:44 GMT 20:44 PST

یورپ کا سب سے بڑا قدرتی پارک

یورپ میں انسان کے بنائے ہوئے سب سے بڑے قدرتی پارک پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ برطانوی کاؤنٹی ایسیکس میں واقع والیسی جزیرے کو پندرہ سو ایکڑ کے دلدلی علاقے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

اس پارک میں پینتالیس لاکھ ٹن مٹی استعمال ہو گی جس کے لیے لندن کے نیچے سے اکیس کلومیٹر لمبی سرنگ کھودنے کے منصوبے سے نکلنے والی مٹی حاصل کی جائے گی۔

اس علاقے کو دلدلی زمین، ساحلی جھیل اور کیچڑ بھرے میدانوں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ یہاں پرندے اور دوسرے جانور آ کر رہنا شروع کر دیں۔

پرندوں کے تحفظ کی رائل سوسائٹی کی زیرسرپرستی قائم ہونے والا یہ قدرتی پارک دو ہزار بیس تک مکمل ہو جائے گا اور اس پر پانچ کروڑ پاؤنڈ خرچ آئے گا۔

پارک ایک الگ منصوبے یعنی کراس ریل پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی مٹی کا اچھا استعمال کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی اور مغربی لندن کو ملانے کے لیے دو سرنگیں بنائی گئی ہیں جن سے سوا کروڑ ٹن کے لگ بھگ مٹی نکلے گی۔ اس مٹی کا تین چوتھائی حصہ والیسی جزیرے میں صرف ہو گا۔

یہ اضافی مٹی جزیرے کی سطح بلند کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی جو فی الوقت سمندر کی سطح سے سات فٹ اوپر ہے۔

اس علاقے میں صدحوں پرانے ساحل پر بنے ہوئے پشتوں نے سمندر کے پانی کو روک رکھا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہاں ماضی میں کھیتی باڑی کی جاتی تھی۔ لیکن دو ہزار چھ میں پشتے کا کچھ حصہ توڑ کر پانی کو اندر آنے دیا گیا۔ مزید حصے دو ہزار پندرہ کے بعد توڑے جائیں گے۔

"والیسی جزیرے کا منصوبہ اکیسویں صدی کی انجینیئرنگ اور تحفظِ حیات کا بے مثال نمونہ ہے۔"

رائل سوسائٹی کو امید ہے کہ اس قدرتی پارک میں کئی اقسام کے پرندے اور مرغابیاں آئیں گی۔

سوسائٹی نے کہا ہے کہ ساحلی پانیوں میں مختلف اقسام کی مچھلیاں بھی پھلیں پھولیں گی۔

سوسائٹی کے ڈائریکٹر پال فورکاسٹ کہتے ہیں: ’والیسی جزیرے کا منصوبہ اکیسویں صدی کی انجینیئرنگ اور تحفظِ حیات کا بے مثال نمونہ ہے۔‘

’اس کے تحت مختلف شراکت داریاں اکٹھی ہو کر ایک ایسا ماحول تخلیق کر رہی ہیں جو غائب ہو گیا تھا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔