مریخ گاڑی نے سفر شروع کر دیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 14:58 GMT 19:58 PST

اس مخروطی پتھر کا نام ناسا کے ایک انجینیئر کے نام پر رکھا گیا ہے جن کا اگست میں انتقال ہو گیا تھا۔

مریخ گاڑی کیوروسٹی سرخ سیارے پر اپنے پہلی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ گاڑی چھ ہفتے قبل مریخ پر اترنے کے بعد سے اب تک دو سو نواسی میٹریا ساڑھے نو سو فٹ کا فاصلہ طے کر چکی ہے۔

گلینیلگ نامی منزل ابھی تقریباً دو سو میٹر دور ہے۔ تحقیق کاروں کو توقع ہے کہ اس جگہ پر انھیں تین اقسام کی جغرافیائی زمینوں کا اشتراک ملے گا۔

لیکن آگے بڑھنے سے قبل یہ گاڑی ایک تاریک پتھر کا جائزہ لے گی۔ یہ پتھر پچیس سنٹی میٹر اونچا اور چالیس سنٹی میٹر چوڑا ہے۔ خیال ہے کہ اس کی کوئی خاص سائنسی اہمیت نہیں ہے۔

اس کی بجائے یہ پتھر مریخی روبوٹ کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ اپنے تین سروے آلات کو پہلی بار استعمال کرے۔

اس پتھر کو کیوروسٹی کے انجینیئر کی مناسبت سے جیک میٹوییچ کا نام دیا گیا ہے۔ چھ اگست کو کیوروسٹی کے مریخ پر اترنے سے تھوڑی دیر قبل اس انجینیئر کی موت واقع ہوگئی تھی۔

مریخ گاڑی اپنے لیزر کی مدد سے پتھر کو جلا کر راکھ کر دے گی اور پھر اپنے روبوٹک ہاتھ اور ایکس رے سپیکٹرومیٹر کی مدد سے اس راکھ کا معائنہ کرے گی۔

کیوروسٹی کی منزل ابھی دو سو میٹر (ساڑھے چھ سو فٹ) دور ہے۔

اس معائنے سے تحقیق کاروں کو اس پتھر کی معدنیاتی ساخت کے بارے میں پتا چلے گا۔

مشن کے سربراہ پروفیسر جان گروٹزنگر کہتے ہیں ’یہ ایک اچھا پتھر ہے جس کی شکل تقریباً مخروطی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس شکل کے پتھر مریخ پر عام ہیں جس کی وجہ غالباً ہوا کی وجہ سے پتھروں کے کٹاؤ کا عمل ہے۔

اس پتھر پر کی جانے والی مشق کا مقصد آئندہ زیادہ اہم اہداف کے انتخاب کا مظاہرہ کرنا ہے، وہ پتھر جن کی سائنسی اہمیت کہیں زیادہ ہے اور جن کا مریخ گاڑی کے اندر موجود دو جدید ترین تجربہ گاہوں کی مدد سے معائنہ کیا جائے گا۔

جمعرات کے روز امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ گاڑی سے موصول ہونے والی ایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں مریخ کے دو چاندوں فوبوس اور ڈائموس کو سورج کے آگے سے گزرتا ہوا دکھایا گیا ہے۔

ان چاندوں کا مطالعہ سائنس دانوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ یہ انھیں مریخ کی اندرونی ساخت کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

کیوروسٹی کے تحقیق کار مارک لیمن کہتے ہیں یہ چاند ’مریخ پر کششِ ثقل کی مدد سے اثرانداز ہوتے ہیں اور اس کی شکل کو بہت معمولی سا تبدیل کرتے ہیں۔‘

’اس کی وجہ سے چاندوں کے مدار بدلتے ہیں، فوبوس کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ جب کہ ڈائموس تیز ہو رہا ہے۔ یہ عمل بہت آہستگی سے ہو رہا ہے۔‘

مریخ کے چاندوں کا مشاہدہ سرخ سیارے کی اندرونی ساخت معلوم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

’ان چاندوں کے سورج کے آگے سے سفر کا مشاہدہ کرنے سے ہم ان کے مداروں اور ان کی رفتار کو بالکل درست طریقے سے ناپ سکتے ہیں۔ یہ بات اس لیے دل چسپ ہے کہ اس کی وجہ سے مریخ کا اندرونی حصہ متاثر ہوتا ہے۔ ہم مریخ کے اندر نہیں جا سکتے لیکن اس سفر کا مشاہدہ کر کے ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ جب چاند گردش کرتے ہیں تو مریخ کی شکل کس حد تک تبدیل ہوتی ہے۔‘

کیوروسٹی اب تک مریخ پر تینتالیس مریخی دن گزار چکی ہے۔ اس وقت کا بیشتر حصہ آلات اور نظاموں کو تیار کرنے میں بسر ہوا ہے۔

اس گاڑی کو یہ جاننے کے لیے مریخ پربھیجا گیا تھا کہ یہ سمجھا جائے کہ جس جگہ یہ اتری ہے اس کے آس پاس ماضی میں خوردبینی حیات موجود رہی ہے یا نہیں۔

اس سوال کا زیادہ بہتر جواب اس وقت ملے گا جب کیوروسٹی ماؤنٹ شارپ پہاڑی کے دامن تک پہنچے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔