خلیے کی موت کی حقیقت اور بانجھ پن کا علاج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 13:16 GMT 18:16 PST
کیموتھراپی  کراتی ایک خاتون

کیموتھراپی خواتین میں بچے پیدا کرنے کی قوت کم کردیتی ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کینسر کا علاج کے دوران کیموتھیراپی سے خواتین کی بچہ دانی میں خلیوں کی تباہی کے بارے میں جاننے سے ان میں کینسر اور بانجھ پن کو روکا جاسکتا ہے۔

آسٹریلیا کے بعض سائنسدانوں نے ایک تازہ تحقیق میں جانا ہے کہ دو مخصوص پروٹین خواتین کی بچہ دانی میں ابتدائی بیضہ کے خلیے کو تباہ کرتے ہیں۔

’مولکیولر سیل‘ نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ اگر بچہ دانی میں خلیے تک رسائی روک دی جائے تو ان پر ’ کیموتھیراپی‘ اور ’ریڈیوتھیراپی‘ کا اثر نہیں ہوتا ہے۔

اس دریافت کے بارے میں ایک برطانوی ماہر کا کہنا ہے کہ یہ ’ایک حوصلہ افزا شروعات ہے‘۔

آسٹریلیا کی والٹر اینڈ الیزا ہال انسٹی ٹیوٹ اور موناش یونیورسٹی اور پرنس ہینری انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل رسرچ کے محقیقین نے ’Primordial follicle oocytes‘ نامی بیضہ کے خلیے کا جائزہ لیا۔ یہ وہ خلیے ہیں جو خواتین کو عمر کے ایک بڑے حصے میں بیضےفراہمی کرتے ہیں۔

سائنسدانوں نے پایا کہ جب کینسر کے علاج کے دوران کیموتھیراپی اور ریڈیوتھیراپی سے خلیے کے ڈی این اے کو نقصان ہوتا ہے تو ’پوما‘ اور ’نوکسا‘ نامی پروٹین بیضوں کی موت کی وجہ بن جاتے ہیں۔

یہی کینسر کی مریض خواتین کے بانجھ پن کی وجہ بنتا ہے۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیضوں کی کمی کی وجہ سے خواتین میں کم عمری میں ہی حیض آنا بند ہوجاتا ہے۔

لیکن سائنسدانوں نے جب بیضہ کے خلیے میں اس طرح سے بعض تبدیلیاں کی ان میں پوما پروٹین نہیں رہا تو تب ان خلیوں پر ریڈیوتھیراپی کا اثر نہیں ہوا۔

اس تحقیق کے بارے میں موناش یونیورسٹی کے پروفیسر جیف کیر کا کہنا تھا ’اس تحقیق کے بارے میں یہ فکر ہوسکتی ہے کہ تباہ شدہ خلیے کو مرجانا ہی ٹھیک ہے تاکہ ذہنی طور پر معذور بچے پیدا نہ ہوں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’لیکن ہمیں یہ دیکھ کر بے حد تعجب ہوا کہ ریڈیوتھیراپی کے بعد نہ صرف خلیے زندہ رہے بلکہ انہوں نے ڈی این اے کے نقصان کو بھی ٹھیک کیا اور وہ زندہ رہے اور صحت مند بچے بھی پیدا ہوئے‘۔

تحقیق میں حصہ لینے والی پروفیسر کلیر سکوٹ کا کہنا تھا ’ہماری تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ اس علاج سے خواتین میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے‘۔

اسی طرح برٹش فرٹیلیٹی سوسائٹی کے ڈاکٹر جین سٹیوارٹ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس تحقیق کا خیر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ یہ سچ ہے کہ ’کینسر سے متاثر خواتین کو اکثر یہ فکر ہوتی ہے کہ کہیں علاج کے اثر کے سبب وہ بانجھ نہ ہوجائیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔