فیس بک: چہرہ شناخت کرنے والا ٹُول معطل

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 07:44 GMT 12:44 PST

یہ اقدام فیس بک کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ پچھلے سال آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر کی جانب سے دی گئی تجا ویز عمل در آمد کے لیے کر رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی تصاویر میں چہرے کی شناخت کرنے والے ٹول کو معطل کر دیا ہے۔

یہ اقدام فیس بک کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ پچھلے سال آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر کی جانب سے دی گئی تجاویز عملدرآمد کے لیے کر رہی ہے۔

یہ سہولت فیسں بک کے نئے صارفین کے لیے موجود نہیں ہے۔

فیس بک کے یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے ڈائریکٹر پالیسی رچرڈ ایلن نے کہا ’یورپین یونین نے اس طرح کی ٹیکنالوجی کے لیے رضامندی کے حصول لیے نئی رہنمائی جاری کی ہے‘۔

’ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم ٹیگ کی تجویز دینے کے فیچر کو دوبارہ شروع کریں گے، لیکن ان رہنمائیوں کے تسلسل میں ان خدمات کے لیے نئی قسم کے نوٹس اور رضامندی کی ضرورت ہوگی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ چہرے کی شناخت کرنے والا یہ ٹول کمپنی کی کمرشل کارروائیوں کا حصہ نہیں تھا اور اس سے بہت ساری شکایات پیدا نہیں ہوئی ہیں۔

دسمبر دو ہزار گیارہ میں آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے فیس بک کو چھ ماہ کا وقت دیا تھا کہ اس کی تجاویز پر عمل در آمد کرے۔

ان تجاویز میں ڈیٹا کیسے استعمال کیا جاتا ہے اور فرد واحد کو اشتہار دینے والے کیسے نشانہ بنائیں گے اور کیسے صارف کو اپنی ذاتی سیٹنگز پر اختیار حاصل ہو گا جیسی تجاویز شامل تھیں۔

"ہمارا ارادہ یہ ہے کہ ہم ٹیگ کی تجویز دینے کے فیچر کو دوبارہ شروع کریں گے، لیکن ان رہنمائیوں کے تسلسل میں ان خدمات کے لیے نئی قسم کے نوٹس اور رضامندی کی ضرورت ہوگی۔"

رچرڈ ایلن، فیس بک

ایلن کا کہنا تھا ’جب آپ ڈیٹا پروٹیکشن کی فیس بک کے بارے میں تحقیقات کے وسیع دائرے کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ یاد رہے کہ وہ ہماری خدمات کے ہر رخ کو دیکھتے ہیں اور ہمارا عمومی نتیجہ بہت اچھا تھا‘۔

انہوں نے مزید کہا ’جن حصوں کا ڈیٹا پروٹیکشن نے جائزہ لیا ان میں انہیں معلوم ہوا کہ ہم جس طریقے سے کام کر رہے ہیں وہ صرف شکایات کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اچھے طریقے سے کام کرنے کا ایک پیمانہ ہے‘۔

ایلن نے کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ ابھی بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن پر کام کی ضرورت ہے اور انہوں نے فیس بک کو چار ہفتوں کا وقت دیا ہے کہ وہ اس بارے میں وضاحت دیں‘۔

ڈیٹا پروٹیکشن ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان کا ادارہ اس بارے میں فکرمند ہے کہ کیا تصاویر جنہیں حذف کرنے کے لیے نشان زد کیا جاتا ہے واقعی چالیس دن کے اندر اندر حذف ہو جاتی ہیں یا نہیں جیسا کہ آئرش ڈیٹا پروٹیکشن کے قوانین کے تحت متوقع ہے۔

ہمیں غیر فعال اکاؤنٹس اور ختم کر دیے گئے اکاؤنٹس کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فیس بک کو چاہیے کہ ایسے صارفین سے ایک وقت کے بعد رابطہ کرے اور دیکھے کہ کیا وہ واپس آنا چاہتے ہیں کہ نہیں‘۔

بہت سارے لوگ ویب سائٹ سے ایک لمبا عرصہ غائب رہنے کے بعد واپس آئے ہیں لیکن ایسے صارفین جن کے اکاؤنٹس غیرفعال ہیں ان سے فیس بک کو ان کے آخری بار لاگ اِن کے دو سال کے اندر رابطہ کرے۔

ڈیوس نے کہا کہ فیس بک کو اپنے صارفین کو اپنی پرائیویسی پالیسیز کے بارے میں تعلیم دینی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔