کیچووں کی یلغار

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 12:24 GMT 17:24 PST

کیچوے عام طور پر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں اس لیے ان کو کسان دوست کیڑے کہا جاتا ہے۔

عام طور پر کیچووں کو کارآمد جانوروں کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کیچوے گلے سڑے نامیاتی مادے کو آپس میں آمیز کر کے ’ری سائیکل‘ کرتے ہیں جس سے غذائی مادے زمین کی سطح پر آ جاتے ہیں۔ اس سے فصلیں خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیچووں کو ’کسان دوست‘ کیڑے کہا جاتا ہے۔

لیکن اب ان کسان دوست کیڑوں نے دنیا بھر پر یلغار شروع کر دی ہے۔ یہ بے ضرر دکھائی دینے والے کیچوے انٹارکٹیکا کو چھوڑ کر باقی ہر براعظم پر ٹڈی دل کی مانند چھاتے جا رہے ہیں۔

اپنے وطن سے دور ان خطوں میں بسنے والے کیچوے مقامی جانوروں کے لیے غذائی قلت کا باعث بن رہے ہیں اور مٹی کی ساخت تبدیل کر رہے ہیں۔

شمالی امریکہ کے جنگلات کیچووں سے خالی تھے۔ لیکن جب یورپی وہاں پہنچے تو کیچوے بھی ان کے ساتھ بن بلائے مہمان کی حیثیت سے آ دھمکے اور جلد ہی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے۔

حال ہی میں کئی سائنسی تحقیقات ہوئی ہیں جن کا مقصد کیچووں کے پھیلاؤ کے نتائج کو سمجھنا ہے۔

گذشتہ برس ایک تحقیقی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کیچوے جنگلوں میں کاربن اور نائٹروجن کے چکر میں خلل ڈال کر مقامی پودوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

البتہ ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ کیچوے اپنے نئے ماحول کو فائدہ بھی دے سکتے ہیں کیوں کہ یہ کاربن کو زمین میں مقید کر دیتے ہیں۔

ان مطالعات کا محور یورپی کیچوے تھے، لیکن ایشیائی کیچوے بھی امریکہ میں سیٹل ہونے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

امریکہ کی اوک لینڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہولی گرائنر اور ان کے ساتھیوں نے ایشیائی کیچووں پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ اپنے نئے ماحول میں زیادہ تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں اور مٹی میں نائٹروجن اور فاسفورس کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کیچوے دوسری انواع کے کیڑوں کو راستے سے ہٹا کر واحد رینگنے والے کیڑے بن گئے ہیں۔

دوسرے مکوڑوں کی نسبت کیچووں کو ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہے کہ جب سطح پر وسائل نایاب ہو جائیں تو یہ زمین میں سرنگ بنا کر اندر چلے جاتے ہیں۔

"کیچوے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر زمین میں کاربن ذخیرہ کرنے کا نظام بدل کر رکھ کر دیتے ہیں جس سے مقامی پودوں اور جانوروں کے تنوع کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور مٹی کے کٹاؤ کا مسئلہ الگ درپیش ہے۔"

امریکہ کی یونیورسٹی آف جارجیا کے ڈاکٹر سنائیڈر کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے ’کیچوے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر زمین میں کاربن ذخیرہ کرنے کا نظام بدل کر رکھ کر دیتے ہیں جس سے مقامی پودوں اور جانوروں کے تنوع کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور مٹی کے کٹاؤ کا مسئلہ الگ درپیش ہے۔‘

لیکن کچھ اور انواع کے کیچوے برازیل کے امیزان کے علاقے میں اس کے برعکس کام کر رہے ہیں۔ وہاں ایک ایسی نسل موجود ہے جو درختوں سے عاری علاقوں میں مٹی کے کٹاؤ میں خلل ڈالتی ہے۔

فرانسیسی اور یورپی سائنس اکیڈمیوں سے تعلق رکھنے والے پروفیسر پیٹرک لیول کہتے ہیں ’اس کیڑے نے درختوں کے کٹاؤ اور زراعت سے پیدا ہونے والے نئے ماحول سے خوب سمجھوتا کیا ہے، جو مقامی انواع نہیں کر سکیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔