ٹیکنالوجی کیسے زلزلوں سے بچا سکتی ہے

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 17:50 GMT 22:50 PST

ستائیس فروری دو ہزار دس کو تین بج کر چونتیس منٹ پر چلی پر چھایا گہرا بادل لڑکھڑایا جب ایک آٹھ اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے نے گھروں کو مسمار، پلوں کو برابر کر دیا اور پانی فراہم کرنے والی پائپ لائنوں کو پھاڑ دیا۔

اس زلزلے کے نتیجے میں پانچ سو پچیس افراد ہلاک ہوئے اور اس کے نتیجے میں تیس ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے۔

موبائل فون کے نیٹ ورک زیادہ کالوں کی وجہ سے بند ہوگئے اور لاکھوں افراد اپنے پیاروں سے رابطے کے بغیر رہ گئے جبکہ حکومتی حکام کے لیے وارننگ جاری کرنا مشکل ہو گیا۔

چلی کے لیے زلزلے نئی بات نہیں ہے ۔صرف پچھلے دو سالوں میں یہاں چالیس سے زائد چھ یا اس زائد شدت کے زلزلے آ چکے ہیں۔

زلزلوں سے متعلقہ ایپس اب ملک کے سمارٹ فونز پر بہتات سے مہیا ہیں جو کہ صارفین کو حقیقی وقت میں صارفین کو باخبر رکھتی ہیں۔

یہ ایپس دنیا بھر سے معلومات فراہم کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے معلومات کو اکٹھا کر کے گوگل کے نقشوں پر دکھاتی ہیں۔

لیکن چلی کے حکام اس سے زیادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ موجودہ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی تجاویز پر بھی غور کر رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں آزمائی گئیں۔

عمارتوں کی حفاظت

عمارتوں کی حفاظت

ان نئی ٹیکنالوجیز میں سے ایک انتہائی کارآمد ٹیکنالوجی چِلی کی ایک کمپنی سِرو نے بنائی ہے جو عمارتوں کو مستحکم رہنے میں مدد دیتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک عمارت کو بہت بڑے بڑے سٹیل کے ڈھانچے نیچے سے سہارا دیتے ہیں جیسا کہ کار کے نیچے شاک کام کرتے ہیں۔

یہ ڈھانچے ہلتی ہوئی زمین سے آزادانہ طور پر الٹتے پلٹتے ہیں اور زلزلے کے جھٹکوں اور عمارت کے درمیان روک بنتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بہت بڑے بڑے کنکریٹ کے بلاک ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک کا وزن ایک سو ساٹھ ٹن تک ہوتا ہے جو کہ عمارت کے اندر لٹکتے ہیں۔

ان بلاکس کا وزن اور ان کی پینڈولم کی طرح جھولنے کی صلاحیت زمین کی لرزش کے دوران عمارت کو مستحکم رکھتے ہیں۔

اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پندرہ منزلہ عمارتوں کے ڈھانچوں میں نوے فیصد تک نقصانات کو کم کر سکتی ہے اور اس سے بلند عمارتوں میں نقصانات کو پچاس فیصد تک کم کر سکتی ہے۔

دو ہزار دس کے زلزلے میں سِرو کی ٹیکنالوجی سے بنے تیرہ کے تیرہ عمارتی ڈھانچے قائم رہے۔

ان بچ جانے والے ڈھانچوں میں چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو کا ایک باون منزلہ ٹائٹینیم ٹاور بھی شامل تھا۔

دو ہزار گیارہ تک سِرو کی مانگ میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے اور ڈی لا لیرا کا کہنا ہے کہ حکومت اب اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے کم آمدنی کے افراد کے لیے نئے گھر بنانا چاہتی ہے۔

محصور آبادیوں تک پانی پہنچانا

محصور آبادیوں تک پانی پہنچانا

زلزلے کے بعد ایک اور بڑا مسئلہ ہوتا ہے پائپ لائن پھٹنے کی وجہ سے پانی تک رسائی کا جب مختلف علاقوں میں پانی پہنچنا رک جاتا ہے ۔

امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں قائم ایک نئی کمپنی ٹوہل جو پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کرتی ہے اس مسئلے کا حل نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ٹوہل کی بنیاد ہیٹی کے دو ہزار دس کے زلزلے کے بعد رکھی گئی تھی جس میں تین لاکھ سولہ ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔چِلی ان ملکوں میں سے ایک ہے جو اس ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے تیار ہے۔

اس کمپنی کے بانی اپورو سنہا کا کہنا تھا کہ اس اصلی مقصد ’زندگیاں بچانے میں بہتر مدد فراہم کرنا ہے‘۔

اس کا طریقۂ کار بہت سادہ سا ہے جس میں ایک پولیتھییلین پائپ پانی کے منبہ میں ڈالا جاتا ہے اور اس کا دوسرا سرا ایک ہیلی کاپٹر سے جوڑا جاتا ہے جو کہ اس کو گھسیٹ کر محصور آبادی تک لے جاتا ہے۔

روایتی طریقوں کی نسبت جن میں دھاتی پائپ استعمال کیے جاتے ہیں ٹوہل کی ٹیوبنگ پانچ سو میٹر سے کئی کلومیٹر تک جا سکتی ہے۔

اس طریقے سے قیمتوں میں کمی اور ان کے بچھانے میں صرف ہونے والے وقت کو گھنٹوں کے بجائے منٹوں میں بدل دیتا ہے۔

اس سال کمپنی نے اس ٹیکنالوجی کا چلی کے اینڈیز پہاڑی سلسلے میں واقع ایک قصبے سان جوز ڈی مائپو میں تجربہ کیا۔

کمپنی کی توقع تھی کہ اس عمل پر ایک گھنٹا لگے گا لیکن اس پر چند منٹ لگے۔

حکام کے فوری رابطے کی سہولت

حکام کے فوری رابطے کی سہولت

جب ایک شہر میں ہر طرف ملبہ بکھرا ہو تو سب سے پہلا خیال لوگوں کے دل میں اپنے پیاروں کا آتا ہے کہ پتا چلے ان کا کیا حال ہے۔

جب ہر شخص موبائل فون اور روایتی فون کے ذریعے بیک وقت رابطے کی کوششیں شروع کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں نیٹ ورکس پر دباؤ بہت بڑھ جاتا ہے۔

اسی کا براہ راست اثر حکام پر پڑتا ہے جو کہ لوگوں تک وارننگ پہنچانے کی کوششوں میں ہوتے ہیں مگر ان کے لیے آبادی تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس مسئلے سے نپٹنے کے لیے چلی کے حکام نے نئی ہنگامی حالات کی وارننگ کے لیے ٹیکنالوجی درآمد کی ہے۔

اس سافٹ وئیر کو جسے ایک اسرائیلی کمپنی ای ویگیلئو نے تیار کیا ہے جو کہ ایک جغرافیائی نشانے کی بنیاد پر چلنے والے نظام کو استعمال کرتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے حکام ایک عوامی پیغام بھجوا سکتے ہیں لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے جو کہ کمپیوٹرز، فیکس مشینوں اور موبائل فونز کے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی تک ایک ہی وقت پیغام پہنچا سکتا ہے۔

یہ سافٹ وئر نیٹ ورک کی مصروفیت کے باوجود پیغامات سیکنڈوں میں کروڑوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔

ای ویگیلئو کے شریک بانی فیلکس وائینک نے کہا ’یہ اہم ہے کہ ریاستوں کے پاس ایسے متبادل اسباب ہوں جن سے وہ لوگوں سے رابطہ کر سکے‘۔

یہ نظام بھی ابھی کسی آفت کے دوران آزمایا نہیں گیا ہے لیکن ڈی لا لیرا کہ کہنا ہے کہ ’انسان قدرتاً ان قدرتی قوتوں جیسا کہ موسم، زلزلے اور دوسری قدرتی آفتیں ہیں ان پر قابو پانے کی مختلف ذرائع کی تلاش میں رہتا ہے۔ اور میں اسے ایسے دیکھتا ہوں کہ آج کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہمیں زلزلوں سے بچاؤ کی اگر ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔