’سارس‘ تیزی سے نہیں پھیلتا: ڈبلیو ایچ او

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 ستمبر 2012 ,‭ 07:17 GMT 12:17 PST
سارس وائرس

سنہ دو ہزار دو میں سارس نامی یہ وائرس چین میں پھیلا تھا جس کے سبب سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے

سانس کی بیماری کے نئے وائرس ’سارس‘ کے بارے میں عالمی ادارے صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خاندان میں کسی شخص کو یہ بیماری ہے تو یہ مرض تیزی سے نہیں پھیلتا۔

عالمی ادارے صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایک ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بیماری آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ سنہ دوہزار دو میں سارس نامی یہ وائرس چین میں پھیلا تھا جس کے سبب سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سارس اور ایک نامعلوم وائرس ذکام پھیلانے والا وائرس ’کورناوائرس‘ نامی وائرس کا حصہ ہے تاہم لیکن یہ نیا وائرس’ کورناوائرس‘ سے مختلف ہے۔

جن دونوں مریضوں کو یہ وائرس ہوا اس سے ان کی گردے متاثر ہوئے اور انہوں نے کام کرنا بند کر دیا۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وہ اس وائرس کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن قطر اور سعودی عرب جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے کیونکہ یہ چھوت کی بیماری نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے آئندہ ماہ شروع ہونے والے حج سے پہلے وہ سعودی حکومت سے رابطے میں تاکہ احتیاطی اقدامات کیے جا سکیں۔

ڈبلیو ایچ او کا یہ بھی کہنا ہے کہ پوری دنیا میں لوگوں میں وائرس کہ پتہ لگانے کے لیے ابتدائی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔