’سپر سانک‘ چھلانگ کی کوشش ملتوی

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 04:12 GMT 09:12 PST

آسٹریا کے سکائی ڈائیور فیلکس بام گارٹنر کی سب سے زیادہ بلندی سے چھلانگ لگانے کی کوشش کو خراب موسم کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

فیلکس نے منگل کو امریکی ریاست نیو میکسیکو میں ایک لاکھ بیس ہزار فٹ یا ساڑھے چھتیس کلومیٹر کی بلندی سے ایک غبارے سے چھلانگ لگانی تھی تاہم غیر موافق ہواؤں کی وجہ سے ان کے غبارے کو فضا میں روانہ نہیں کیا گیا۔

فیلکس کسی گاڑی کی مدد کے بغیر آواز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے حرکت کرنے والے پہلے انسان بننے کی کوشش کر رہے ہیں اور ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ وہ اب جمعرات کو یہ ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

آسٹریائی مہم جو جتنی بلندی سے چھلانگ لگانے والے ہیں وہاں تقریباً خلاء جیسے حالات ہوتے ہیں اور وہ چھلانگ کے اگلے چالیس سیکنڈ میں چھ سو نوے میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ جائیں گے۔

اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو وہ مقامی صحرا میں پیراشوٹ کی مدد سے اتریں گے۔

فلک بوس عمارتوں سے چھلانگیں لگانے کے لیے مشہور تینتالیس سالہ مہم جو اس تجربے کے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔

وہ جہاں سے چھلانگ لگانے والے ہیں وہاں ہوا کا دباؤ سطحِ سمندر سے بھی دو فیصد کم ہوگا اور وہاں آکسیجن کی مصنوعی سپلائی کے بغیر سانس لینا ممکن نہیں۔

اب تک جس کسی نے بھی بلند ترین، تیز ترین یا طویل ترین ’فری فال‘ یا چھلانگ کے موجودہ ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی ہے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

فیلکس کا کہنا ہے کہ ’اگر کچھ غلط ہوجائے تو صرف خدا ہی آپ کی مدد کر سکتا ہے کیونکہ اگر قسمت اور صلاحیت آپ کا ساتھ نہ دے تو کچھ نہیں بچتا اور صرف امید ہی باقی رہ جاتی ہے‘۔

اس وقت بلند ترین سکائی ڈائیو کا ریکارڈ امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ کرنل جو کٹنجر کے پاس ہے۔ انہوں نے اگست انیس سو ساٹھ میں ایک لاکھ دو ہزار آٹھ سو فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگائی تھی۔

کرنل کٹنجر اب فیلکس کی ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ واحد شخص ہوں گے جو اس بلندی تک ڈھائی گھنٹے کے سفر اور چھلانگ کے بعد زمین تک پہنچنے کے دس منٹ کے وقت کے دوران فیلکس سے بات کریں گے۔

انجینیئرز نے اس تجربے میں درپیش خطرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے ایک خصوصی کیپسول تیار کیا ہے جو آسٹریائی ڈائیور کے غبارے کے نیچے نصب ہوگا۔

فیلکس اس تجربے کے دوران خلابازوں کا لباس بھی پہنیں گے۔

اگرچہ یہ چھلانگ فیلکس کی مہم جوئیوں کا حصہ ہے لیکن ان کی ٹیم اس کی سائنسی مطابقت کے بارے میں بھی زور دے رہی ہے۔

اس منصوبے سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے بہت زیادہ بلندی پر سفر کرنے والے طیاروں یا خلائی گاڑیوں سے ہنگامی حالت میں اخراج کے عمل کا اندازہ بھی کیا جا سکے گا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا اور خلائی جہاز تیار کرنے والی کمپنیوں نے بھی انہیں اس تجربے کے نتائج سے آگاہ کرنے کو کہا ہے۔

تاحال اس بات کا مفصل ڈیٹا موجود نہیں کہ انسانی جسم پر ’سپر سانک‘ اور پھر اس سے ’سب سانک‘ رفتار میں منتقلی کا کیا اثر پڑتا ہے اور تجربے کے دوران اس بات کا جائزہ لینے کے لیے فیلکس کے جسم سے آلات منسلک کیے جائیں گے۔

اس تجربے کے اثرات کا کسی حد تک جائزہ لینے کے لیے فیلکس اکہتر ہزار چھ سو اور ستانوے ہزار ایک سو فٹ کی بلندی سے دو تجرباتی چھلانگیں لگا چکے ہیں اور اپنی اس تیسری اور سب سے بلندی سے لگائی جانے والی چھلانگ میں وہ پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر پیراشوٹ کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس تجربے کو عالمی نشریاتی رابطے پر براہِ راست نشر کیا جائے گا تاہم کسی حادثے کے خطرے کے پیشِ نظر ناظرین کو بیس سیکنڈ کے توقف سے یہ نشریات دیکھنے کو ملیں گی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔