چار سورج والے سیارے کی دریافت

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 03:36 GMT 08:36 PST

’ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم ایسا سیارے ڈھونڈ لیں گے‘

ایک تازہ تحقیق کے مطابق پہلی بار ایک ایسا سیارہ دریافت کیا گیا ہے جس پر روشنی کا ذریعہ چار مختلف سورج ہیں۔

اس سیارے کی دریافت چند رضا کاروں نے امریکی اور برطانوی ٹیموں کے ساتھ مل کر پلینٹ ہنٹرز ڈاٹ آرگ استعمال کرتے ہوئے کی۔

اس کے بارے میں مزید تحقیق کیک آبزرویٹری نے کی۔

یہ سیارہ پانچ ہزار لائٹ ایئرز سے تھوڑے کم فاصلے پر ہے۔ اور اس نام پی ایچ ون یعنی پلینٹ ہنٹرز ون رکھا گیا ہے۔

یہ سیارہ زمین سے چھ گنا بڑا ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرس لنٹوٹ نے بی بی سی کو بتایا ’آپ کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پڑی یہ معلوم کرنےکے لیے کہ ایک ایسا نظام وجود میں ہے۔ چار سورج ہونے کے باعث اس سیارے کا ماحول پیچیدہ لیکن اس کے باوجود یہ سیارہ مستحکم مدار میں موجود ہے۔‘

غیرمعمولی بات

نظام شمسی میں ایسا سیارہ جس کے دو سورج ہوں معمول کی بات ہے لیکن کسی بھی سیارے کے چار سورج ہونے ایک غیر معمولی بات ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ بات بہت پریشان کردینے والی ہے لیکن اسی لیے یہ دریافت اتنی دلچسپ ہے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم ایسا سیارے ڈھونڈ لیں گے۔‘

نظام شمسی میں ایسا سیارہ جس کے دو سورج ہوں معمول کی بات ہے لیکن کسی بھی سیارے کے چار سورج ہونے ایک غیر معمولی بات ہے۔

اس سوال پر کہ کیسے یہ سیارہ مستحکم رہ سکتا ہے جب چار سورج اس پر اثر انداز ہوں تو ڈاکٹر لنٹوٹ نے کہا ‘ان چار سورج کے ارد گرد چھ دیگر سیارے ہیں اور یہ سیارے ان سورج کے بہت قریب ہیں۔ یہ سیارے قریب رہتے ہیں اور اسی طرح ایک مستحکم مدار میں موجود ہیں۔‘

سیارہ پی ایچ ون کو سان فرانسسکو کے کیئن جیک اور ایریزونا کے رابرٹ گیگلیانو نے پلینٹ ہنٹرز ڈاٹ آرگ استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا۔

ان دونوں نے دیکھا کہ جب بھی سیارے سورجکے سامنے سے گزرتےتو روشنے مدھم ہو جاتی تھی۔ ان کے بتانے پر ہوائی میں واقع کیک ٹیلیسکوپ کے ذریعے ماہرین نے اس سیارے کی دریافت کی تصدیق کی۔

پلینٹ ہنٹرز ڈاٹ آرگ ویب سائٹ سنہ 2010 میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد تھا کہ لوگ اس معلومات کے ذریعے نظام شمسی کے بارے میں جان سکیں جو امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی کیپلر سپیس ٹیلی سکوپ سے حاصل کی گئی ہیں۔

ناسا کی کیپلر سنہ 2009 میں وجود میں آئی اور یہ ٹیلی سکوپ زمین سے مماثلت رکھنے والے سیاروں کا کھوج لگاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔