تیس برس کی عمر سے پہلے تمباکونوشی چھوڑ دیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 اکتوبر 2012 ,‭ 17:09 GMT 22:09 PST

نئی تحقیق کے مطابق تیس سال کی عمر تک تمباکو نوشی ترک کر دینے والی خواتیں کو تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے مرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

ایک تحقیق کے مطابق تیس سال کی عمر تک تمباکو نوشی ترک کر دینے والی خواتیں کو تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے مرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔

برطانیہ میں کی گئی اس تحقیق میں خواتین کی زندگی پر تمباکو نوشی کے اثرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

لانسٹ جریدے میں شائع ہونے والے اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کی نسبت زندگی بھر تمباکو نوشی کرنے والے ایک دہائی پہلے مر گئے۔ تاہم جنھوں نے تمباکو نوشی شروع کی اور تیس سال کی عمر تک چھوڑ دی تو ان کی زندگی اوسطاً ایک مہینہ کم ہوئی اور جنھوں نے چالیس سال کی عمر تک تمباکو نوشی سے چٹکارا پایا ان کی زندگی ایک سال کم ہوئی۔

ماہرین کے بقول ’اس کا مطلب ہے نوجوانوں کو تمباکو نوشی کا لائسنس دینا نہیں‘۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ سر پروفیسر رچرڈ پیٹو کا کہنا ہے کہ’ہم نے پایا کہ اگر خواتین مردوں کی طرح تمباکو نوشی کریں گی تو مردوں کی طرح مریں گی۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تمباکو نوشی کرنے والے نصف سے زائد خواتین اگر اسے جاری رکھتی ہیں تو تمباکو نوشی انھیں مار دے گی۔اسے ترک کر دینا فائدہ مند ہے جتنا جلد اسے چھوڑا جائےاتنا بہتر ہے۔‘

پروفیسر رچرڈ پیٹو نے کہا کہ ’اہم مسئلہ تمباکو نوشی کی مقدار نہیں بلکہ عرصہ ہے۔ اگر آپ دس سگریٹ روزانہ چالیس سال تک پیتے رہیں گے تو یہ زیادہ خطرناک ہے بہ نسبت اگر آپ روزانہ بیس سگریٹ بیس سال تک پیتے رہیں گے۔ اگر آپ روزانہ چند ہی سگریٹ پیتے ہوں تو تب بھی درمیانی عمر میں آپ کے مرنے کا خدشہ دوگنا ہو جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ سوشل سموکنگ یا کبھی کبھار تمباکو نوشی سے صحت کو کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بارہ لاکھ خواتین کے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جو خواتین روزانہ دس سے بھی کم سگریٹ پیتیں تھیں ان کے جلد مرنے کا خدشہ بڑھ گیا۔

پروفیسر رچرڈ کا کہنا ہے کہ مردوں کے لئے بھی یہی حساب کتاب ہے۔

برطانیہ کے لنگ فائونڈیشن کا کہنا تھا کہ جن خواتین نے تیس سال کی عمر تک تمباکو نوشی ترک کر دی ان کی صحت اچھی رہی۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ ’اس کا مطلب یہ لائسنس دینا نہیں کہ بیس کی دہائی تک انسان جتنا چاہے سگریٹ پیئے‘۔

لنگ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر پینی ووڈز کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی ترک کرنا مشکل ہے اور ایک اندازے کے مطابق ستّر فیصد لوگ سگریٹ چھوڑنا چاہتے ہیں اور بہتر یہی ہے کہ تمباکو نوشی سے اجتناب کیا جائے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر رابرٹ وسٹ کا کہنا ہے کہ ’ تمباکو نوشی نہ صرف انسانی عمر کو گھٹاتا ہے بلکہ اس کے زیادہ اثرات جسم پر ہوتے ہیں جیسے جلد کی عمر کو کم کرنا۔‘

انھوں نے کہا کہ بیس کی دہائی میں انسانی پھیپھڑے بہت اچھا کام کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی کارکاردگی خراب ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے پھیپھڑے ساٹھ اور ستر کی دہائی تک ٹھیک رہتے ہیں لیکن اگر کسی نے تمباکو نوشی کی ہے اور پھر ترک بھی کر دی ہے تو تمباکو نوشی سے ہونے والا ناقابل تلافی نقصان اور عمر کے ساتھ بدن کی کارکردگی کم ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی کا معیار خراب ہو جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔