آن لائن تعلیم: نقل کیسے روکی جائے؟

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 14:30 GMT 19:30 PST

آن لائن امتحان کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ دیا جا سکتا ہے۔

ذرا تصور کریں کہ آپ اپنے گھر میں بیٹھے امتحان دے رہے ہیں اور ایک ویب کیم آپ کی نگرانی پر مامور ہے۔ یا پھر ایک سافٹ ویر آپ کے طرزِ بیان اور آپ کے کی بورڈ سٹروکس پر یہ دیکھنے کے لیے نظر رکھے ہوئے ہے کہ دراصل یہ آپ ہی ہیں جو سوالوں کے جواب دے رہے ہیں۔

اعلٰی تعلیم کے لیے آن لائن کورس خاص طور پر امریکہ میں بہت مقبول ہو رہے ہیں جہاں لاکھوں طلبہ نے بعض عمدہ ترین یونیورسٹیوں کے آن لائن کورسوں میں داخلہ لے رکھا ہے۔

اس وقت تعلیم کا خرچ اور طلبہ کے تعلیمی قرضوں کا بوجھ دس کھرب (ایک ٹریلین) ڈالر سے تجاوز کر رہا ہے۔ اس لیے طلبہ کم خرچ بالا نشیں تعلیم کے لیے آن لائن کورسوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

یہ سب اپنی جگہ لیکن ٹیڑھی کھیر یہ ہے کہ ان کورسوں کا امتحان کس طرح لیا جائے جس سے یہ امکان ختم ہو جائے کہ طلبہ کی طرف سے کسی قسم کی دھوکا دہی تو نہیں ہو رہی؟ آخر ممتحن کو کیا معلوم کہ طالب علم کی بجائے کوئی اور تو سوالوں کے جواب نہیں دے رہا؟

جب تک اس مسئلے کا تسلی بخش حل تلاش نہیں کر لیا جاتا، آن لائن کورسوں کی قدر و قیمت میں اضافہ نہیں ہو سکتا۔

برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی فاصلاتی تعلیم کی ترویج میں پیش پیش رہی ہے۔اس یونیورسٹی کے پیٹر ٹیلر کہتے ہیں ’یہ اس شعبے کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ آپ کو کیا پتا کہ درست شخص امتحان دے رہا ہے یا نہیں‘۔

آن لائن کورسوں کی سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ ان میں کہیں سے بھی اور کسی بھی وقت حصہ لیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر ٹیلر کہتے ہیں کہ یونیورسٹی طلبہ کو گھر بیٹھے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔

’ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آن لائن امتحان کس طرح لیا جائے، تاکہ طلبہ کو کمرۂ امتحان تک نہ آنا پڑے‘۔

’ان کے کمپیوٹر لاک کیے جا سکتے ہیں تاکہ وہ کسی دوسرے مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔ اگر کمپیوٹر میں ویب کیم لگا ہوا ہے تو پھر یہ خاصے موثر ممتحن کے فرائض سرانجام دے سکتا ہے‘۔

پروفیسر ٹیلر کہتے ہیں کہ ابھی تک اس قسم کا تسلی بخش نظام وضع نہیں کیا جا سکا لیکن انھیں امید ہے کہ اس مسئلے کا حل بہت جلد تلاش کر لیا جائے گا۔

لیکن یہ کیسے جانا جائے کہ کون امتحان دے رہا ہے؟

پروفیسر ٹیلر کہتے ہیں کہ طالب علم کی شناخت معلوم کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ لوگ ایک مخصوص طریقے سے ٹائپ کرتے ہیں اور سافٹ ویر یہ شناخت کر سکتا ہے کہ کون ٹائپ کر رہا ہے۔ یہ گویا اس شخص کا دستخط ہوتا ہے۔

پروفیسر ٹیلر کو اعتماد ہے کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی پانچ برسوں کے اندر اندر سامنے آ جائے گی۔

تاہم دوسری جانب امریکہ کی دو بڑی یونیوسٹیاں ایم آئی ٹی اور ہارورڈ ایڈایکس نامی کمپنی کے مدد سے کمرۂ امتحان کا کردار مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہیں۔ وہ بین الاقوامی امتحان گھروں کا ایک سلسلہ قائم کر رہے ہیں جہاں طلبہ امتحان دے سکیں گے اور ان کی جانچ خودکار طریقے سے کمپیوٹر کی مدد سے کی جائے گی۔

اس قسم کا امتحان دینے والے طلبہ کو ایک خاص قسم کا سرٹیفیکیٹ دیا جائے گا جس میں درج ہو گا کہ یہ امتحان کمرۂ امتحان میں لیا گیا ہے۔

ہر شخص ایک مخصوص طریقے سے ٹائپ کرتا ہے، جسے اس کے شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایڈایکس کے پہلے صدر اننت اگروال کہتے ہیں کہ ممتحنوں کو تشویش ہے کہ ان کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ تعلیمی کام خود طلبہ ہی نے کیا ہے یا نہیں۔

اس قسم کے امتحانوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں بیٹھے ہوئے دسیوں ہزار طلبہ کا بیک وقت امتحان لیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر اگروال کا کہنا ہے کہ طلبہ آن لائن امتحانوں سے ملنے والی فوری فیڈبیک کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن ملٹی میڈیا اور انٹریکٹیو لیکچر روایتی لیکچروں کے مقابلے پر زیادہ موثر ہوتے ہیں۔

لیکن خودکار طریقے سے نمبر لگانے والے امتحان مخصوص شعبوں تک ہی محدود ہو کر رہ جاتے ہیں کیوں کہ کمپیوٹر ہر قسم کے سوالوں کو نہیں جانچ سکتا۔مثال کے طور پر کمپیوٹر ادبی موضوعات پر لکھے گئے مضامین کو پرکھنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔

اس چیلنچ سے ایک اور کمپنی نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کا نام کورسیرا ہے اور اسے سٹین فورڈ یونیورسٹی نے سلیکون ویلی کے سرمایہ کاروں کی مدد سے تیار کیا ہے۔

کورسیرا کے اجرا کے پہلے ہی برس سولہ لاکھ طلبہ نے تیس اعلیٰ یونیورسٹیوں کے کورس پڑھنے کے لیے اس میں داخلہ لیا۔

لیکن اتنے زیادہ طلبہ کی معتبر طریقے سے جانچ کس طرح ممکن ہے؟

کورسیرا کی شریک بانی ڈیفنی کولرکہتی ہیں کہ خودکار جانچ سے گریڈ یا نمبر تو دیے جا سکتے ہیں لیکن طلبہ کسی انسان کی طرف سے فیڈ بیک بھی چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی ٹیکنالوجی ابھی تک نہیں آئی جو یہ معلوم کر سکے کہ آیا کوئی مضمون سوال کے ساتھ ٹھیک سے منسلک ہے یا نہیں۔

اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر ٹیلر کہتے ہیں کہ ان کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ بیانیہ سوالوں کی جانچ کے لیے انسان کی مداخلت ضروری ہوتی ہے۔

کورسیرا ایسے نظام وضع کرنے پر تجربات کر رہی ہے جس کے تحت طلبہ استاد کی ہدایات کی روشنی میں خود ایک دوسرے کے کام کو جانچ سکیں۔اس طرح کلاس کی تعداد بڑھنے سے نمبر لگانے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو جائے گا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کا انحصار دوسرے طلبہ کے قابلِ اعتماد ہونے پر ہے۔

آن لائن طلبہ کو نقل کرنے سے روکنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد نظام ایک عوامی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

اعلٰی تعلیم آن لائن

"اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ وقت اعلٰی تعلیم کے آن لائن حصول کا ہے، اور عالمی طلبہ کے حصول کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے"

مارٹن بین

یونیورسٹی آف ٹیکسس، جس نے حال ہی میں ایڈایکس میں شمولیت اختیار کی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن کورسوں کی اتنی ٹیوشن فیسیں لے گی، جس سے اسی درجے کا معیار برقرار رکھا جا سکے جو روایتی کورسوں میں ہوتا ہے۔

اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر مارٹن بین کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ وقت اعلٰی تعلیم کے آن لائن حصول کا ہے، اور عالمی طلبہ کے حصول کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے‘۔

تاہم یہ مقابلہ جو مختلف یونیورسٹیوں کے برانڈ اور مارکیٹنگ کے درمیان ہو رہا ہے، دراصل تعلیم کے معیار اور ادارے کی ساکھ کے درمیان بھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔