نجی خلائی کمپنی کا پہلا مشن کامیاب

آخری وقت اشاعت:  پير 29 اکتوبر 2012 ,‭ 11:33 GMT 16:33 PST

سپیس ایکس مال برداری کے مزید بارہ مشن مکمل کرے گی

امریکہ کی ایک نجی خلائي کمپنی ’سپیس ایکس‘ کی خلائی گاڑی ڈریگن بین القوامی خلائی سٹیشن پر پہلی بار کامیابی سے ساز و وسامان پہنچا کر زمین پر واپس آگئی ہے۔

یہ خلائی گاڑی (کیپسول) میکسیکو کے مغربی بحرالکاہل میں مقامی وقت کے مطابق تقریبا ساڑھے بارہ بجے اترا۔

امریکی نجی کمپنی ’سپیس ایکس‘ نے ڈریگن نامی اس خلائی جہاز کو سات اکتوبر کو خلاء میں روانہ کیا تھا جو تین روز بعد ہی اپنی منزل پر پہنچ گيا تھا۔

اس خلائی کیپسول کی مدد سے بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر تعینات خلا بازوں کے لیے آدھا ٹن وزنی خوراک اور دیگر سامان لے جایا گیا تھا۔

اپنی واپسی میں ڈریگن ٹوٹی ہوئي مشینیں اور خلابازوں کی طرف سے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن سے ادویات کے وہ نمونے اپنے ساتھ لائي ہے جسے انہوں نے گزشتہ ایک برس کے دوران جمع کیا۔

سپیس ایکس کا اگلا مشن جنوری میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ تاہم اس سے پہلے اسے خلائي ادارہ ناسا کو یہ اطمینان دلانا ہوگا کہ اکتوبر میں روانگی کے وقت اس کے انجن میں جو خرابی ہوئي تھی اُسے سمجھ لیا گيا ہے اور اس تکنیکی خرابی کو دور کر دیا گيا ہے۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا نے نجی خلائي کمپنی سپیس ایکس کے ساتھ ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت اس کمپنی ایسے بارہ مشن سرانجام دینے تھے اور پہلا اس نے مکمل کر لیا ہے۔

یہ انسانی خلا بازی کی تاریخ میں پہلا موقع اور ایک بڑا سنگِ میل ہے کہ کسی نجی کمپنی نے بین الاقوامی خلائی مرکز کو سامان اور رسد کی فراہم کا مشن کامیابی سے مکمل کیا ہو۔

روایتی طور پر اس طرح کی تمام کوششیں حکومتی سرپرستی میں ہوتی رہی ہیں اور پہلی بار نجی کمرشل کمپنی نے اس میں کامیابی حاصل کرکے نمایاں کارکاردگی انجام دی ہے۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا پیسے بچانا چاہتا ہے تاکہ وہ اس رقم کو اپنے دیگر خلائی مشنز جیسے کہ مریخ پر تحقیق کے لیے استعمال کر سکے اسی لیے اس نے نجی کمپنیوں سے مدد لینی شروع کی ہے۔

ناسا کو امید ہے کہ ایک دوسری نجی کمپنی کو بھی خلائی مرکز میں ساز و وسامان کے لیے جلد ہی بھیجا جا سکےگا۔

’دی آربٹ سائنس کارپوریشن‘ نامی کمپنی جلد ہی اپنے انٹاریس نامی ایک راکٹ کا تجربہ کرے گی اور پھر اس کے بعد وہ اپنی روبوٹک خلائي گاڑی خلائی مرکز میں بھیجے گا۔

اگر اسے اپنے تجربات میں کامیابی ملی تو اس کا بھی ناسا کے ساتھ تقریبا دو ارب ڈالر کا معاہدہ ہوجائے گا۔ ناسا چاہتا ہے کہ خلاء بازوں کا ساز و سامان لے جانےکے لیے وہ ان نجی کمپنیوں کا استعمال کرے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔