’سٹیم سیل سے سپرم کی بحالی ممکن‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 08:40 GMT 13:40 PST

کینسر کا علاج کروانے والے بیشتر مرد علاج سے قبل اپنا مادۂ منویہ منجمد کروا لیتے ہیں

بندروں پر کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق لڑکپن میں کینسر کے علاج کی وجہ سے مادۂ منویہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہونے والے افراد بھی ایک دن اپنے محفوظ شدہ سٹیم خلیوں کی مدد سے دوبارہ اس قابل ہو سکتے ہیں۔

کینسر کے علاج کے لیے کی جانے والی کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی نہ صرف ٹیومر کو ختم کرتی ہے بلکہ ان خلیوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جو مادۂ منویہ پیدا کرتے ہیں۔

سٹیم سیل نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کینسر کے علاج کے آغاز سے قبل مادۂ منویہ پیدا کرنے والے سٹیم خلیے حاصل کیے گئے جنہیں بعدازاں ایک بندر کے جسم میں داخل کر دیا گیا۔

تحقیق کے مطابق اس تجربے کے نتیجے میں ایسا مادہ منویہ پیدا ہوا جو کسی بھی بیضے کو بارآور کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ ماہرین نے اسے تحقیق کے میدان میں ایک ’سنگِ میل‘ قرار دیا ہے۔

تجربے کے دوران بارہ میں سے نو بالغ اور پانچ میں سے تین نابالغ بندر کینسر کی دوا کے استعمال کے باوجود سٹیم سیل کی مدد سے مادۂ منویہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

خیال رہے کہ کینسر کا علاج کروانے والے بیشتر مرد علاج سے قبل اپنا مادۂ منویہ منجمد کروا لیتے ہیں تاہم نابالغ مریضوں کے لیے یہ چیز ممکن نہیں تھی۔

نابالغ مریضوں میں بھی وہ سپرماٹوجونیل سٹیم سیل موجود ہوتے ہیں جو ان کے بالغ ہونے پر مادۂ منویہ پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

پٹسبرگ یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن کے ڈاکٹر کائل آروگ کا کہنا ہے کہ تحقیق نے ہمیں یہ راہ دکھائی ہے کہ ایسا انسانوں میں بھی ممکن ہے لیکن انسانوں پر اس تجربے سے قبل ابھی کئی سوالات کے جواب حاصل کرنا باقی ہیں۔

ان کے مطابق یہ سوال اہم ہے کہ محفوظ شدہ خلیے علاج کے فوری بعد مریض کے جسم میں داخل کیے جائیں یا اس کے مکمل طور پر صحتیاب ہونے یا پھر اس وقت کا انتظار کیا جائے جب وہ خاندان کے آغاز کے لیے تیار ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ سوال بھی انتہائی ضروری ہے کہ جب ہم ایسے خلیے مریض کے جسم میں داخل کریں گے جن پر کینسر کی دوا استعمال نہیں کی گئی تو کہیں ان میں کوئی ایسا خلیہ نہ ہو جس میں اس بیماری کے اثرات ہوں اور مریض دوبارہ کینسر میں مبتلا ہو جائے۔

فرانس کے انسٹیٹیوٹ آف سیلیولر اینڈ مالیکیولر ریڈیوبایولوجی کے محقق پیئر فوشیٹ کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس شعبے میں ایک سنگِ میل کا درجہ رکھتے ہیں اور ایسے افراد کے لیے امید کی کرن ہیں جو بچپن میں کینسر کی وجہ سے یہ صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بارآوری پر کی جانے والی تحقیق کے سماجی نتائج کے حوالے سے پرمغز بحث انتہائی ضروری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔