امیروں غریبوں میں اموات کا فرق

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 14:00 GMT 19:00 PST

پینسٹھ برس سے اوپر کے لوگوں کو امراض قلب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے

انگلینڈ میں ایک جائزے سے پتا چلا ہے کہ سنہ اسّی کے بعد سے دل کی بیماریوں کے علاج میں مجموعی طور پر بہتری آنے کے باوجود پینسٹھ برس سےاوپر کے لوگوں کی اموات میں امیروں اور غریبوں میں فرق اور بڑھ گیا ہے۔

اس سے متعلق امپیرئل کالج لندن کے ماہرین نے ایک جائزہ پیش کیا ہے جنہوں نے تیس، چونسٹھ، اور پینسٹھ برس سے اوپر کے مرد و خواتین کی شرح اموات کا تجزیہ کیا۔

اس کے تحت سنہ انیس سو بیاسی سے دو ہزار چھ کے دوران انگلینڈ بھر کےتقریبًا آٹھ ہزار وارڈز کا مطالعہ کیا گيا۔

اس میں پایا گيا کہ مانچیسٹر، لیورپول، یارک شائر کے کچھ حصے، برمنگھم کے قرب و جوار اور سہولیات سے محروم رہنے والے لندن کی بلدیات میں امراض قلب سے اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

شمال کے بعض وہ علاقے جہاں اسّی کے عشرے میں حالت بری تھی وہاں اب حالات پہلے سے بہتر ہیں لیکن وہ بھی بہترین علاقوں سے بہت پیچھے ہیں۔

اس کے علاوہ انگلینڈ کے دیگر مختلف علاقوں میں امراض قلب سے متعلق حالات اوسطًا ٹھیک ہیں لیکن وہ بھی اب پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔

اس سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب انگلینڈ میں مجموعی طور پر امراض قلب سے اموات نصف سے بھی کم ہوگئی ہیں۔

لیکن پیسنٹھ برس سے اوپر کے مرد و خواتین جو پسماندہ علاقوں میں رہتے ہیں ان میں یہ کمی بہت کم واقع ہوئي ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امیرترین اور غریب ترین میں فرق بہت بڑھ گیا ہے۔

"اگر لوگوں کا روزگار کم مستحکم ہے تو وہ اپنی خوارک میں تبدیلی کے لیے مجبور ہوتے ہیں یا پھر شراب یا تمباکو نوشی زیادہ کرنے لگتے ہیں۔ تو اگر ہمیں شرح اموات میں کمی کرنا ہے تو پھر ایسے امور پر ہمیں توجہ دینی ہوگي۔"

اس گروپ میں ایک فیصد بہتر کار کردگی کرنے والے وارڈز کے مردوں میں امراض قلب سے اموات میں پانچ گنا زیادہ کمی واقع ہوئي جبکہ خراب کارکردگی کرنے والے وارڈز میں یہ کمی ایک فیصد تک ہی رہی۔

دوسری جانب خواتین کے زمرے میں یہ فرق تقریبًا دس گنا دیکھنے میں آئی۔

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ موجودہ خراب اقتصادی حالات میں جب خرچوں میں کٹوتی کی جا رہی ہے یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کیونکہ اس سے محروم اور پسماندہ کمیونٹیز کے مزید متاثر ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔

ڈاکٹر پرویز اثریہ، جنہوں نے اس ریسرچ میں حصہ لیا، کا کہنا ہے کہ ’اگر لوگوں کا روزگار کم مستحکم ہے تو وہ اپنی خوارک میں تبدیلی کے لیے مجبور ہوتے ہیں یا پھر شراب یا تمباکو نوشی زیادہ کرنے لگتے ہیں۔ تو اگر ہمیں شرح اموات میں کمی کرنا ہے تو پھر ایسے امور پر ہمیں توجہ دینی ہوگي‘۔

پروفسیر ماجد عزت بھی اس تحقیق میں شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مدد کے لیے کیا کیا جاتا ہے اور اس سے مختلف کیا کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں یہ معلوم ہے کہ امراض قلب سے اموات کو کیسے روکا جائے۔ ہمیں اس کے لیے تمباکو نوشی جیسے رسک فیکٹر کو کم کرنا ہوگا اور ہمیں اعلٰی قسم کی جی پی سروس اور علاج دونوں ہی ذرائع سے بہتر سہولیات مہیا کرنی ہوں گي‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔