’انسانی صلاحیتوں‘ میں اضافہ، سائنسدانوں کو فکر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 13:23 GMT 18:23 PST
انسان کا دماغ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ انسانوں کی ایسی نسل پیدا ہو جو اندھیرے میں بھی دیکھ سکے

سائنسدانوں کا کہنا ہے انسانی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے جس شدت سے رسرچ کی جا رہی ہے اس سے یہ ممکن ہے کہ انسانوں کی ایسی نسل پیدا ہو جو اپنی زندگی کی ہر بات کو یاد رکھ سکے اور کبھی تھکے ہی نہیں۔

واضح رہے کہ آج کے دور میں پہلے ہی ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو دماغی صلاحیت میں اضافے اور رات رات بھرجاگنے کے لیے ایسی ادویات کا استمعال کر رہے ہیں جو صرف یادداشت کھونے کی بیماری کے علاج کے لیے استمعال ہوتی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صرف آئندہ پندرہ برسوں میں اس طرح کے آلات موجود ہونگیں جو انسان کی زندگی میں ہونے والی روز مرہ کی تمام باتوں کو ایک ویڈیو ریکارڈنگ کی طرح ریکارڈ کرسکے گا اور لوگ اس ریکارڈنگ کا استمعال تب تب کرسکتے ہیں جب جب ان کی یادداشت ان کا ساتھ نہ دے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ انسانوں کی ایسی نسل پیدا ہو جو اندھیرے میں بھی دیکھ سکے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہےکہ انسانی صلاحیتوں میں اس قدر اضافہ ایک خوشی کی بات ہے لیکن اس کی ایک قیمت بھی چکانی پڑے گی جو کہ صرف معاشی نہ ہوکر اخلاقی بھی ہوگی۔

برطانیہ کی اکاڈمی آف میڈیکل سائنس، دی برٹش اکاڈمی، دی رائل اکاڈمی آف انجئیرنگ اور رائل سوسائٹی کے سانئسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی صلاحیتوں کے اضافے کے بارے میں ہونے والی رسرچ کے نقصانات کے بارے میں فوری طور پر بحث کی ضرورت ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی صلاحیتوں میں اضافہ عمر دراز لوگوں کے لیے مدد گار ثابت ہوسکتا ہے تاکہ وہ نوجوان لوگوں کے ساتھ کام کرنے میں مقابلے کی صلاحیت رکھ سکیں۔

ایک سائنسدان پروفیسر جنویرا رچرڈسن کا کہنا تھا ’ایسی مختلف تکنیک عمل میں لائی جا رہی ہیں جس سے انسانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوسکے اور بعض جگہ ان کا استمعال بھی ہو رہا ہے اور وہ ہمارے کام کرنے کے طریقے میں اچھی اور بری تبدیلیاں لارہی ہیں‘۔

واضح رہے کہ متعدد جائزوں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بہت سے طلباء اس طرح کی ادویات کا استمعال کر رہے ہیں جس سے امتحان میں ان کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے۔بعض لوگ یہ دوائیں انٹرنٹ کے ذریعے خریدتے ہیں جس سے یہ خطر پیدا ہوتا ہے کہ یہ دوائیں کھانا محفوظ بھی ہے یا نہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے دوراندیش اثرات کے بارے میں معلومات کم ہے اور یہ بھی نہیں معلوم کہ آگے چل کر یہ دوائیں نوجوان افراد کے دماغ پر کیا اثر ڈالتی ہیں۔

میڈیکل رسرچ کاؤنسل کے ڈاکٹر رابن لول بیج کا کہنا ہے ’انسانی صلاحیت میں اضافے والی دوائیں پالسی بنانے والوں کے سامنے بڑے چیلنج پیدا کرتی ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ دوائیں کھانے میں آسان ہوتی ہیں، بغیر ڈاکٹر کی صلاح کے بازار میں آسانی سے دستیاب بھی ہیں اور بہت سے صحت مند افراد ان ادویات کا استمعال بھی کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ان ادویات کا استمعال صحیح ہے لیکن اس کے کیا نتائج ہونگیں اس کے بارے میں بحث اور غور و فکر بھی بے حد ضروری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔