سپر کمپیوٹرز، پہلا اور دوسرا نمبر امریکہ کے نام

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 03:42 GMT 08:42 PST

دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز کی لسٹ میں پہلا اور دوسرا نمبر امریکہ نے اپنے نام کر لیا ہے۔

اس سے قبل بھی امریکہ نے پہلی اور دوسری پوزیشن اپنے نام کی تھی۔ایسا تین سال قبل ہوا تھا۔

دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر امریکی ریاست ٹینیسی میں اوک رِج نیشنل لیبارٹری میں ہے جس کا نام ٹائیٹن ہے۔

یہ کمپیوٹر کرائے پر بھی دیا جا سکتا ہے اور یہ امریکی محکمہ توانائی کی ملکیت ہے۔

ٹائیٹن کو جون میں جب بنایا گیا تھا تو اس وقت یہ دنیا کے چھٹے نمبر پر تھا۔

دنیا کے پانچ سو طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز کی فہرست سالٹ لیک سٹی یوٹا میں منعقد ہونے والی سپر کمپیوٹنگ کانفرنس میں جاری کی گئی ہے۔

امریکی سپر کمپیوٹر ٹائیٹن کے علاوہ آئی بی ایم کا ’سکویا‘ دوسرے نمبر پر، جاپان کا سپر کمپیوٹر ’کے کمپیوٹر‘ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ شکاگو میں آئی بی ایم کا ’بلیو جین‘ چوتھے نمپر پر ہے۔ جرمنی میں آئی بی ایم ہی کا ’بلیو جین‘ پانچویں نمبر پر ہے۔

سنہ انیس سو ترانوے میں تھِنکنگ مشینز کا CM-5/1024 کمپیوٹر اس فہرست کا پہلا سپر کمپیوٹر تھا۔ پروفیسر ڈونگارا کہتے ہیں کہ سکویا کی رفتار اس کمپیوٹر سے تقریباً پونےتین لاکھ مرتبہ زیادہ تیز ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔