برطانیہ میں ٹائپ رائٹروں کی تیاری ختم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 12:50 GMT 17:50 PST
برطانیہ میں بننے والا آخری ٹائپ رائٹر

فیکٹری میں کام کرنے والے ملازم ایڈورڈ برائن نے برطانیہ کا آخری ٹائپ رائٹر بنایا ہے

برطانیہ کے علاقے ویلز میں ایک کارخانے کے مالکان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ٹائپ رائٹروں کی تیاری ختم کر دی گئی ہے اور انہوں نے برطانیہ میں آخری ٹائپ رائٹر تیار کر کےمیوزیم کے حوالے کر دیا ہے۔

اس ٹائپ رائٹر کو بنانے والی کمپنی برادر کا کہنا ہے کہ اس نے ایسا ٹائپ رائٹر تیار کیا ہے جو برطانیہ میں میں بننے والا آخری ٹائپ رائٹر ہوگا۔ برادر کا کہنا ہے کہ انیس سو پچاسی میں ان کی کمپنی شروع ہوئی تھی اور تب سے لے کر ابتک وہ تقریباً دس ملین ٹائپ رائٹر بناچکے ہیں۔

انہوں نے آخری ٹائپ رائٹر کو لندن کے سائنس میوزیم کو عطیہ کے طور پر دے دیا ہے۔

میوزیم کا کہنا ہے کہ یہ ٹائپ رائٹر اس تکینک کے خاتمے کی عکاسی کرتا ہے جو بہت ساری زندگیوں کے لیے بے حد اہم تھا۔

فیکٹری میں کام کرنے والے ملازم ایڈورڈ برائن نے برطانیہ کا آخری ٹائپ رائٹر بنایا ہے۔

انہوں نے بی بی سی بریک فاسٹ پروگرام میں بتایا ’اگر کسی نے مجھ سے کبھی پوچھا تو میں کہہ سکتا ہوں میں نے برطانیہ کا آخری ٹائپ رائٹر بنایا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل انہوں نے آنکھیں بند کر کے ایک ٹائپ رائٹر بنانے کی کوشش کی تھی جس میں وہ کامیاب رہے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹائپ رائٹر اس لیے بنانے بند کیے کیونکہ گزشتہ کچھ سالوں میں ٹائپ رائٹر کی ڈیمانڈ میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

سائنس میوزیم کے اسسٹنٹ کیوریٹر ریچیل بون کا کہنا ہے ان کے میوزیم میں پہلے ہی دو سو ٹائپ رائٹر ہیں اور ان کا پورا سٹاف اس بات کے لیے خوش ہے کہ ہمارے ٹائپ رائٹروں کے ذخیرے میں میں ایک اور کا اضافہ ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔