موبائل سروس بند، لیکن دھماکے جاری، سوشل میڈیا پر بحث

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 24 نومبر 2012 ,‭ 06:40 GMT 11:40 PST

پاکستانی سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل ہے جہاں ان پابندیوں کے حمایتی اور مخالف کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں موبائل فون اور پی ٹی سی ایل کی وائر لیس سروس بے شک بند ہے مگر انٹرنیٹ کی سہولت ابھی تک کافی بہتر حالت میں مہیا ہے اور اس پر اظہار رائے کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ حکومت مختلف طریقوں سے اس پر بھی مختلف قسم کی قدغنیں لگاتی رہتی ہے اور اس وقت بھی کئی ویب سائٹس تک رسائی کی بندش ہے۔

پاکستان اور بیرون ملک سے مختلف لوگ موبائل فون اور دوسری بندشوں پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تبصرے اور کمنٹس کر رہے ہیں۔

ان تبصروں میں ملا جلا رجحان ہے جس میں بہت سارے لوگوں نے ان بندشوں کی حمایت کی ہے اور امن کی خاطر اسے قربانی قرار دے کر اسے جائز قرار دیا ہے۔

تو دوسری جانب کئی افراد کا خیال ہے کہ بندشوں کا آغاز کوئی اچھا شگون نہیں اور یہ بات اب کہاں جا کر رکے گی؟

رضا دوتانی نے بی بی سی کے فیس بک کے صفحے پر لکھا ’موبائل سروس بند، گیس بند، بجلی بند، بازار بند، لیکن دھماکے نہیں بند ہو رہے ہیں۔‘

انجئیر مجاہد خان نے فیس بک پر لکھ کر کئی لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کی کہ ’موبائل فون بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے‘۔

"بقول وزیر داخلہ صاحب کے پہلے بھی موبائل فون کے بغیر کام ہوتا تھا۔۔ جی ہاں کیوں نہیں، پہلے لوگ جنگلوں اور غاروں میں بھی رہتے تھے۔"

عبداللہ سعید کی ٹویٹ

سکندر نادر کا خیال تھا کہ ایک دو روز کی بندش کوئی بڑی بات نہیں ہے اور عارف اقبال نے لکھا ’اگر موبائل بند کرنے سے زندگیاں بچ سکتی ہیں تو زندگی موبائل فون سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہے نا۔‘

جہاں سید فرخ نے لکھا کہ یہ کوئی حل نہیں ہے تو عبدالسلام خلیفہ کا خیال تھا کہ ’لگتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے پاس تمام مسائل کے لیے صرف ایک حل ہے۔ جس کا اصل مطلب ہے کہ ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔’

اس ساری بحث میں وزیر داخلہ رحمان ملک خاص طور پر اور حکومت عمومی طور پر تنقید کا نشانہ بنے ہیں اور سوشل میڈیا پر حکومتی وزرا کو آڑے ہاتھوں لینے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔

محمد مبشر حسین نے جیسا کہ لکھا ’امید ہے اب حکومت ہوا بند نہیں کرے گی۔‘

اسامہ زوہیب میمن نے لکھا ’موبائل فون سروس بند کرنے یا ڈبل سواری پر پابندی لگانے سے کچھ نہیں ہوگا حکومت اگر چاہے تو دو دن میں دہشت گردی ختم کر سکتی ہے۔‘

لودھراں سے مقبول خان کا خیال تھا کہ دھماکوں کی خبروں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گرد ایک دھماکہ کر کے اس کو تشہیر کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

"لگتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے پاس تمام مسائل کے لیے صرف ایک حل ہے۔ جس کا اصل مطلب ہے کہ ان کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔"

سید فرخ کا فیس بک کمنٹ

سہیل میمن کچھ طنز کے موڈ میں تھے تو انہوں نے لکھ دیا کہ ’بھئی ہمارا ملک ہے ہم جو چاہے بند کریں بجلی یا فون ہماری مرضی۔‘

اسی طرح عبید عثمانی نے ٹویٹ کی کہ ’ آخر کیا وجہ ہے کہ پورے ملک کا نظام جام کردیا گیا ہے۔ ایک طرف کاروبار بند تو دوسری طرف سیکورٹی کے نام پرمعیشت کاجنازہ نکال دیاگیاہے۔‘

عبداللہ سعید نے ٹوئٹر پر وزیر داخلہ کی پیش کردہ توجیح پر چوٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ بقول وزیر داخلہ صاحب کے پہلے بھی موبائل فون کے بغیر کام ہوتا تھا۔۔ جی ہاں کیوں نہیں، پہلے لوگ جنگلوں اور غاروں میں بھی رہتے تھے۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔