سیارہ عطارد پر پانی کی موجودگی کے ثبوت

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 دسمبر 2012 ,‭ 12:40 GMT 17:40 PST

سیارہ عطارد سورج سے قریب ہونے کے سبب بہت گرم سیارہ مانا جاتا ہے

سائنسدانوں نے بلآخر اس بات کے شواہد حاصل کر لیے ہیں کہ سیارہ عطارد کے قطب شمالی پر اربوں ٹن برف موجود ہے۔

اس سے متعلق سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پانی کے ثبوت خلائی گاڑی ’میسنجر‘ سے ملے ہیں جو ساکت پانی میں کھڑی ہے۔

اس سے متعلق ایک دوسری رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس سیارہ پر زيادہ تر پایا جانے والا پانی برف کی شکل میں ہے۔

یہ برف برقی رو والی کالی تہہ کے نیچے ہے جس میں نامیاتی مالیکیول ہیں۔

اس دریافت سے اس بات کو معلوم کیا جاسکتا ہے کہ روئے زمین پر یہ اجزاء پہلی بار کب اور کیسے پہنچے ہوں گے۔

سیارہ عطارد پر پہنچنے والا پہلا خلائی جہاز ’ میسنجر‘ تھا۔ مارچ دو ہزار گيارہ میں سیارہ پر پہنچنے کے بعد سے ’میسنجر‘ ایسی تصاویر بھیج رہا ہے جس سے سائنس دانوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

پانی سے بنی برف کی موجودگی کا اصولی ثبوت کرافٹ کے ’ نیوٹران سپیکٹرومیٹر‘ سے ملتا ہے۔

’میسنجر‘ کے پرنسپل تفتیش کار سیئن سلومن کا کہنا ہے کہ ’جب برقی مقناطیسی شعائیں سیارے پر پڑتی ہیں تو نیوٹران پیدا ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن نیوٹران کو جذب کرنے والا بہترین مادہ ہے۔ تو نیوٹران سپیکٹرومیٹر سطح کے آس پاس سے نیوٹران کے بہاؤ کی رفتار میں کمی یا زیادتی کا پتہ کر کے ہائیڈروجن کی موجودگی کو دریافت کرتا ہے‘۔

لیزر کے ذریعے اس کی مزید جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ سیارے پر پایا جانے والا برف کا بیشتر حصہ کالے مادوں سے بننے والی ایک موٹی تہہ سے ڈھکا ہوا ہے۔

" جب برقی مقناطیسی شعائیں سیارہ پر پڑتی ہیں تونیوٹران جینریٹ ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن نیوٹران کو جذب کرنے والا بہترین مادہ ہے۔ تو نیوٹران سپیکٹرومیٹر سطح کے آس پاس سے نیوٹران کے بہاؤ کی رفتار میں کمی یا زیادتی کا پتہ کرکے ہائیڈروجن کی موجودگی کو دریافت کرتا ہے۔"

پرفیسر سولمن کے مطابق میسنجر نے جو بھی چیزیں دریافت کی ہیں اس سے نہ صرف نظام شمسی سے متعلق معلومات حاصل ہوتي ہیں بلکہ اس سے دیگر سیاروں کے متعلق بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

سورج سے انتہائی قربت کی وجہ سے سیارہ عطارد سائنسی تجربات کے لیے مشکل جگہ ہے۔ اس کی سطح اتنی گرم ہے کہ وہ سیسے کو بھی پگھلا دیتی ہے۔

اس گرم ماحول میں جہاں خلائی جہاز کو سورج کی تپش سے محفوظ رکھنے کے لیے اس پر حفاظتی چادر لگائی گئی ہے وہیں اس کے آلات کو عطارد کی حرارت سے بچانے کا خصوصی انتظام بھی کیا گیا ہے۔

عطارد کو اکثر لوگ ایک غیر دلچسپ دنیا قرار دیتے ہیں جس کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں ہے لیکن وہ خلائی سائنسدان جنہوں نے اس سیارے پر کام کیا ہے اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کے مطابق عطارد دو انتہاؤں کی دنیا ہے اور جہاں سورج سے قریب ہونے کی وجہ سے اس کی سطح کا درجہ حرارت چھ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے وہیں اس کے قطبین میں ایسےگڑھوں میں آبی برف بھی موجود ہے جو ہمیشہ سائے میں رہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔