بلانوشی کے جین کا پتا چلا لیا گیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 13:49 GMT 18:49 PST

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جن لوگوں میں وہ مخصوص جین ہوتا ہے وہ بلا نوشی کے عمل سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ حد سے زیادہ شراب پینے کا شوق یعنی بلانوشی کی وجوہات میں سے ایک وجہ بعض افراد میں ایسے جین کی موجودگی ہوتی ہے جن کے لیے بلانوشی کا عمل زیادہ لطف کا باعث بنتا ہے۔

لندن کے کنگز کالج کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے تحقیق کے بعد آر اے ایس جی آر ایف ٹو نامی ایک جین کا پتا چلایا ہے جس کا تعلق بلانوشی سے ہو سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے ایسے جین کی موجودگی والے افراد بلا نوشی کے عمل سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔

تحقیق کارروں نے چھ سو تریسٹھ ایسے نوجوانوں پر تجربات کیے ہیں جن کی عمریں انیس برس سے کم تھیں۔ نوجوانوں کے دماغوں کو غور سے دیکھنے سے پتا چلا ہے کہ ایسے نوجوان جن میں آر اے ایس جی آر ایف ٹو نامی جین موجود ہو وہ بلانوشی سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔

محققین میں سے ایک پروفیسر کنٹر شومین نے اس تحقیق کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت مہیا نہیں کرتی کہ اس جین کی موجودگی بلانوشی کی واحد وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عین ممکن ہے کہ انسان جس ماحول میں رہتا ہے وہ بھی بلانوشی پر اثر انداز ہوتا ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس ریسرچ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض لوگ بلانوشی سے کیوں لطف اندوز ہوتے ہیں۔

پروفیسر کنٹرشومین نے کہا کہ کسی انسان کی جینیاتی ساخت بلا نوشی کی وجہ تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں ہے اگر آپ میں آر اے ایس جی آر ایف ٹو نامی جین موجود ہو تو آپ شراب کو ہاتھ نہ لگائیں یا اگر آپ میں یہ جین موجود نہ ہو تو آپ کے لیے بلا نوشی کرنا مناسب ہے۔

انہوں نے کہا آر اے ایس جی آر ایف ٹو نامی جین کی موجودگی صرف یہ پتا دیتی ہے کہ بلانوشی بعض لوگوں کے لیے کیوں اتنا لطف اندوز عمل ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل میں شاید یہ ممکن ہو سکے کہ کسی شخص کا ٹیسٹ کرنے سے اس میں آر اے ایس جی آر ایف ٹو نامی جین کی موجودگی کا پتا چلایا جا سکے۔

برطانیہ کی حکومت کو بلانوشی کی وجہ سے کئی معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلا نوشی کی وجہ سے حکومت کی سالانہ اربوں پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

برطانیہ میں ہر سال پانچ ہزار ایسے لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے جو بلا نوشی کرتے ہیں۔

ہسپتالوں میں حادثات اور ایمرجنسی کے شعبوں میں آنے والے میں سے کثیر تعداد شراب نوشی کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ آدھی رات سے لے کر صبح پانچ بجے تک یہ شرح ستر فیصد تک جا پہنچتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔