ذائقہ حواس پر کیوں چھایا رہتا ہے؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 دسمبر 2012 ,‭ 15:12 GMT 20:12 PST
ایک خاتون لیموں کھاتے ہوئے

لیموں یا کھٹا کھانے پر لوگ عام طور پر اس طرح کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق تمام لوگ کھانے کے ذائقے سے ایک ہی طرح سے محظوظ نہیں ہوتے۔ ہم میں سے کوئی صبح میں سٹرانگ کافی کی خواہش رکھتا ہے تو کوئی اس پر اعتراض کرتا ہے۔

کرسمس کے تہوار کے زمانے میں سبزیوں میں چند لوگوں کی پہلی پسند پھول گوبھی اور بند گوبھی ہے لیکن یہ سب کی پسند تو نہیں۔

ہم طرح طرح کے کھانے کے بارے میں مختلف النوع ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ انفرادی یا ذاتی پسند نا پسند کا معاملہ نہیں ہے۔

عام تاثر کے برعکس سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کھانے کے ذائقے یا اس سے لطف اندوز ہونے کا عمل جزوی طور پر ہمارے جینز پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ہماری معلومات یہ سمجھنے میں مدد کر رہی ہیں کہ ہمارے حواس کس طرح ذائقے کو پہچانتے ہیں اور ان کے تئیں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔

اگر آپ لیموں کے ذائقے پر منہ بناتے ہیں اور سپراؤٹ کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ برطانیہ کی پچیس فی صد آبادی کے ساتھ ’سوپر ٹیسٹر‘ یعنی ذائقے کے بڑے پارکھ ہیں۔

سوپر ٹیسٹر

دنیا میں ذائقہ کو پہچاننے والے لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

  • ذائقے سے نابلد
  • درمیانی درجے کے
  • سوپر ٹیسٹر

دنیا کے پچیس فی صد لوگ پہلے زمرے میں آتے ہیں جبکہ پچاس فیصد درمیانی درجہ میں اور پچیس فیصد سوپر ٹیسٹر ہیں۔

خواتین زیادہ تعداد میں سوپر ٹیسٹر ہوتی ہیں جبکہ ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ والوں کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کی زبان میں باقی لوگوں سے دگنا ذائقے کو پہچاننے کی صلاحیت ہے اور جس کی وجہ سے آپ بطور خاص کڑوے ذائقے کے تئیں زیادہ حساس ہیں۔

اب سائنسدانوں نے ’تھرمل ٹیٹسٹر‘ یعنی حرارت کی جانچ کی موجودگی کا پتا چلا لیا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی زبان میں ذائقہ پہچاننے کی صلاحیت کھانے کی گرمی پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

مثال کے طور پر آئس کیوب زبان پر نمکین لگیں گے جبکہ کوئی گرم چیز میٹھی۔

جین کی ایک علیٰحدہ قسم والے لوگ دھنیے کی مہک اور ذائقے کے بارے میں کافی حساس ہوتے ہیں۔ ان کے لیے شوربے اور سلاد میں پائے جانے والے ہرا دھنیا صابن کا ذائقہ دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف لندن میں حواس کے شعبے کے ڈائریکٹر اور فلسفے کے پروفیسر بیری اسمتھ کا کہنا ہے کہ ہم کھانے کو چکھنے یا اس کا ذائقہ جاننے میں اپنے تمام حواس کا استعمال کرتے ہیں۔

زبان

جس کی زبان پر ذائقے کو پہچاننے والی کلیاں جتنی زیادہ ہوں گی وہ اتنا مزے کے متعلق اتنا حساس ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’کوئی چیز کتنی نمکین، کڑوی یا میٹھی ہے اس کے لیے ہماری زبان کے کئی حصے بیک وقت سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کی بو یہ بتاتی ہے کہ کسی چیز کی بو کیسی ہے اور اس کے ساتھ ہاتھ کا مس ہونا یہ بتاتا ہے کہ کوئی چیز کتنی چکنی، سخت، نرم، یا ملائی دار ہے اور یہ سب مل کر ذائقہ بناتے ہیں۔‘

آکسفورڈ یونیورسٹی میں تجرباتی نفسیات کے پروفیسر چارلس سپنس کا کہنا ہے کہ ذائقے میں بو کا اہم کردار ہوتا ہے۔

کھانے کے متعلق پسند و نا پسند کے بارے میں دماغ کے کردار پر ان کے مطالعے کی جانب بہت سے خانساماں یا شیف متوجہ ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تیز بو سے ذائقے میں اضافہ ہوتا ہے اور کئی بڑ ی کمپنیاں اور ریستوراں اس سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس چیز سے دوران خون میں سب سے زیادہ تیزی آتی ہے۔‘

ذائقے کو پہچاننے والا عنصر پیشانی کے بیچ میں قائم دماغ کے حصے تک کھانے کے ذائقے اور بو کو لے جاتا ہے تاکہ دماغ رد و قبول کا فیصلہ کر سکے۔

رائل سوسائٹی آف میڈیسن کی ایک حالیہ کانفرنس میں پروفیسر سپنس نے کہا کہ رنگ، چمک اور ماحول یہ سب بھی ہمارے ذائقے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور کھانے کے ذائقے کا تعین کرتے ہیں۔

دھنیا

ذائقے کے لیے عام طور پر کھانے میں ہری دھنیے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ خاص لوگوں کو صابن کے جیسا مزہ دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں یہ تجربہ کیا ہے کہ کھانے کا لال رنگ چیزوں کے میٹھے ہونے کے احساس دوبالا کرتا ہے۔ جب کہ جس پلیٹ میں کھانا رکھا گیا ہے اگر پلیٹ اور کھانے دونوں کا رنگ مماثل ہے تو اس کا ذائقے پر علیٰحدہ اثر پڑتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح کا ہم کھانا کھا رہے ہیں اگر اس میں اس سے ہم آہنگ موسیقی بھی ہوتو کھانے کے مزے میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ کسی چیز کے چبانے کے عمل میں کرکرے پن کی آواز اس کی تازگی کا احساس دلاتی ہیں اور اس خوردنی اشیا کی بنانے والی کمپنیاں جہاں تک ممکن ہو اس کا خیال رکھتی ہیں۔

لیکن یہ جاننا کہ ذائقے کے متعلق ہمارے حواس کس طرح کام کرتے ہیں صحت عامہ کے لیے اس کا علم کافی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

پروفیسر اسمتھ کا کہنا ہے کہ ہمارے کھانے میں ضرورت سے زیادہ نمک کے استعمال کا بھی اس سے حل مل سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ غذا کے متعلق مستقبل کی سائنس کے ذریعے یہ کیا جا سکتا ہے کہ غذا میں ایسا عنصر شامل کیا جائے جس سے نمک تو محسوس ہو لیکن دراصل غذا میں نمک کم ہو۔

سوپرٹیسٹر جین پر تحقیق سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ آخر بچے کیوں کھانے کے معاملے بڑے ضدی ہوتے ہیں کہ وہ ایک قسم کا کھانا کھائیں اور دوسرے قسم کو ٹھکرا دیں گے۔

بچے کڑواہٹ کے متعلق زیادہ حساس ہوتے ہیں اور بالغوں کے مقابلے ان کے لیے ذائقہ الگ ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔