سپیم پروفائلز کی تصویروں کے پیچھے کون؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 14:48 GMT 19:48 PST
پوپی ڈنسی

برطانیہ کی فیشن بلاگر پوپی ڈنسی

برطانیہ کی فیشن پر بلاگ لکھنے والی پوپی ڈنسی یہ جان کر سکتے رہ گئی کہ کس طرح فلیکر پر ڈالی گئی ان کی تصویر امریکہ سے چلنے والی ایک فحش ویب سائٹ پر پہنچ گئی۔

انھوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم اس وقت ہوا جب انھوں نے گوگل کے سرچ میں اپنا نام ٹائپ کرکے کچھ جاننا چاہا۔

انھوں نے کہا ’انٹرنیٹ پر سرچ کے نتیجے کے چھٹے صفحے پر مجھے کچھ لنک ملے جو مجھے اس ویب سائٹ تک لے گئے جہاں پنچ کر مجھے لگا کہ شاید دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی، حالانکہ میری تصویریں فحش یا پورن نہیں تھیں بلکہ وہ میں ہی تھی جو دھوپ سینک رہی تھی۔‘

اس کے بعد تیزی سے اس ویب پیج نے سرچ کے پہلے صفحات پر آنا شروع کر دیا جس پر ڈنسی نے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتی کہ لوگ یہ سوچیں کہ میں نے یہ تصاویر اس ویب سائٹ پر لگائی ہیں۔ ہر چند کہ میری تصویریں فحش نہیں تھیں لیکن جس ویب سائٹ پر وہ تصاویر لگی تھیں وہ تو فحش تھی۔ میں نے اس ویب سائٹ سے رابطہ کرنے کی بے سود کوشش کی مگر میں اس میں ناکام رہی۔

بالآخر انھوں نے اس سائٹ کو ہوسٹ کرنے والی امریکی رجسٹری سے رابطہ قائم کیا جس نے اسے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے جرم میں بند کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے بوائے فرنڈ کو یہ بات کافی مزاحیہ لگی لیکن مجھے یہ بات کافی پریشان کن بلکہ مجھے اس سے کافی مایوسی ہوئی۔‘

پوپی ڈنسی اپنا فیشن بلاگ ’واٹ آئی وور ٹوڈے‘ یعنی میں نے آج کیا پہنا کے نام سے لکھتی ہیں جس کے لیے وہ ہر دن ایک خاص لباس میں اپنی تصویر اس پر ڈالتی ہیں اور وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ اسی سبب ان کی طرح طرح کی تصویریں انٹرنٹ پر موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’چونکہ انہیں میں نے اپنے فون سے لیا ہے اس لیے اس پر میرا کاپی رائٹ ہے اور اسی وجہ سے مجھے اس معاملے میں آگے بڑھنے میں مدد ملی۔‘

بہر حال وہ کہتی ہیں کہ حال ہی میں انھیں اپنی تصویر ترکی سے بنائے گئے ایک فیس بک پروفائل میں بھی ملی ہے۔

لیکن ڈنسی کے پندرہ سالہ کزن کا کہنا ہے کہ صرف بے نام سپیم بھیجنے والے ہی اس کا استعمال نہیں کرتے بلکہ اپنے بچوں پر نظر رکھنے کے لیے کچھ استاد اور والدین بھی ایسا کرتے ہیں تاکہ وہ اس بات پر نظر رکھ سکیں کے ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔

بچے یہ بھی کہتے ہیں کہ فلاں لڑکی سے فیس بک پر دوستی مت کرنا کیونکہ وہ کوئی استاد ہے۔ وہ اسے معمول کی بات سمجھتے ہیں لیکن یہ ناقابل یقین ہے۔

امانڈا

اوپر دی گئی خاتون کی تصویر کو دو ہزار نو میں کینیڈا کے ایک اخبار کے کلینڈر کے لیے لیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے انھوں نے اپنا گھر بدل لیا۔ انھون نے اپنا کام بدل لیا، ان کی شادی ہو چکی ہے اور ان کا ایک بچہ ہے لیکن وہ اس بات سے لاعلم ہیں کہ ان کی تصویر انٹر نٹ پر گردش کر رہی ہے اور سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئیٹر پر کئی لوگوں کے پروفائل کی زینت ہے۔

ان کا نام امینڈا ہے اور انہیں ایک صحافی جیسن فیفر نے تلاش کیا ہے۔ وہ ’ٹوئیٹر بوٹس‘ (ایسے اکاؤنٹ جن کے پیچھے کوئی فرد نہیں بلکہ محض ایک کمپیوٹر ہوتا ہے جو انہیں چلاتا ہے) پر ایک سٹوری تیار کرنے کے سلسلے میں یہ دیکھ رہے تھے کہ جھوٹا اکاؤنٹ بناکر سپیم پھیلانےوالے کیا کرتے ہیں۔

جب فیفر نے یہ بات امینڈا کو بتائی تو انہیں بہت عجیب لگا۔ ان کے ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ ان کے مستقبل میں نوکری دینے والے ان کے بارے میں کیا سوچیں گے لیکن وہ اس بات کی بھی اہلیت نہیں رکھتیں کہ ان تصاویر کے استعمال سے لوگوں کو روک سکیں۔

امینڈا تنہا ایسی نہیں ہیں جن کی تصویر کو دوسرے لوگ استعمال کر رہے ہیں بلکہ ہر دن اس طرح کی دس تصاویر کسی نہ کسی پروفائل کی زینت بنتی ہیں۔

فیفر نے بتایا کہ ’زیادہ تر لوگوں کو یہ علم نہیں کہ آخر ’ٹوئٹر بوٹ‘ ہے کیا بلا وہ بس اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ انہیں پریشان کرنا میرا مقصد نہیں لیکن جب انہیں پتا چلا تو یہ ان کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا۔ ان کا پہلا رد عمل یہ تھا ان کی شناخت کی چوری ہوئی ہے اور کوئی ان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ ایک طرح سے وہ صحیح ہیں مگر ان کے نام کا استعمال نہیں ہو رہا ہے اور مجموعی طور پر ٹوئٹر بوٹ بے ضرر ہے۔‘

بہرحال سائبر سیکوریٹی کے ماہر گراہم کلولی کا کہنا ہے کہ ان کا استعمال سیکس اور پیسے کے لیے ہوتا ہے اور سپیم پھیلانے والے اسی لیے ان کا استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔