سگریٹ نوشی سے دل کے دورے کا دگنا امکان

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 16:37 GMT 21:37 PST

تحقیق کے دوران تین سو پندرہ ہلاکتوں میں سے پچہتر ایسی خواتین تھیں جو کہ سگریٹ نوشی جاری رکھے ہوئی تھیں

ایک تحقیق کے مطابق کم سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو سگریٹ نہ پینے والی خواتین کے مقابلے میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کا امکان دو گنا ہوتا ہے۔

اس تحقیق میں ایک لاکھ ایک ہزار نرسوں کا تین دہائیوں تک جائزہ لیا گیا۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ایک جریدہ میں شائع اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ جو خواتین سگریٹ پینا چھوڑ دیتی ہیں، ان کی دل کے اچانک دورے سے ہلاکت کے امکانات چند ہی سالوں میں کم ہونے لگتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران دل کے دورے سے اچانک ہلاکتوں کی تعداد تین سو پندرہ تھی۔

پینتیس سال اور اس سے کم عمر کے لوگوں میں ایسی ہلاکتوں کی وجہ عموماً خاندان میں دل کے مرض کی موجودگی ہوتی ہے مگر اس عمر سے زیادہ کے افراد میں یہ دل کے مرض کی پہلی علامت ہوتی ہے۔

تحقیق کے دوران ہلاک ہونے والی تین سو پندرہ ہلاکتوں میں سے پچہتر ایسی خواتین تھیں جو کہ سگریٹ نوشی جاری رکھے ہوئی تھیں، ایک سو اڑتالیس نے حال ہی میں سگریٹ نوشی چھوڑ دی تھی اور ایک سو اٹھائیس نے کبھی سگریٹ نہیں نوش کیا۔

ڈاکٹر روپندر ساندھو کی تحقیقاتی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ جب دل کے امراض کی دیگر وجوہات جیسے کہ بلند فشارِ خون، کولسٹرول کی اونچی سطح اور خاندان میں اس مرض کی موجودگی کو مدِنظر رکھا جائے تو روزانہ ایک سے چودہ سگریٹ نوش کرنے والی خواتین کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کا امکان دگنا ہے۔

پر پانچ سال کی مسلسل سگریٹ نوشی سے اس خطرے میں آٹھ فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

سگریٹ نوشی چھوڑ دینے والے شرکاء میں ان خطروں کے سطح معمول پر آنے میں بیس سال لگ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ساندھو کا کہنا ہے کہ سگریٹ چھوڑنا مشکل ہو سکتا ہے اور مگر اس کے فوائد سب افراد کے لیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کئی بار کوشش کرنی پڑ سکتی ہے۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کی دل کے امراض کے لیے سینیئر نرس ایلن مینسن کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ دن میں صرف چند سگریٹ پینا بھی آپ کی صحت کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’نئے سال کی آمد پر ہم میں سے بہت سے افراد سگریٹ نوشی ترک کرنے کا ارادہ کریں گے۔ اگر آپ سگریٹ نوشی چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ تحقیق آپ کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔‘

حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق تیس سال کی عمر تک تمباکو نوشی ترک کر دینے والی خواتیں کو تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہلاکت کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ لانسٹ جریدے میں شائع ہونے والے اس تحقیق کے نتائج کے مطابق تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کی نسبت زندگی بھر تمباکو نوشی کرنے والے ایک دہائی پہلے ہلاک ہو گئے۔ تاہم جنھوں نے تمباکو نوشی شروع کی اور تیس سال کی عمر تک چھوڑ دی تو ان کی زندگی اوسطاً ایک مہینہ کم ہوئی اور جنھوں نے چالیس سال کی عمر تک تمباکو نوشی سے چٹکارا پایا ان کی زندگی ایک سال کم ہوئی۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں خواتین کا پانچواں حصہ سگریٹ نوشی کرتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔