فیس بک کی نئی پرائیویسی سیٹنگ اور صارف

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 دسمبر 2012 ,‭ 15:08 GMT 20:08 PST

فیس بک نے نئی پرائیویسی سیٹنگ جاری کی ہیں جن کے تحت اب فیس بک کے صارفین کو ویب سائٹ پر رکھے گئے اپنے مواد پر زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔

ان نئی سیٹنگز میں پرائیویسی کے شارٹ کٹ یعنی ویب سائٹ پر ایسے آسان ذرائع جن سے سیٹنگ آسانی سے بدلی جا سکتی ہے اور یہ معلومات کیسے ویب سائٹ پر مختلف اشیا نظر آئیں گی اور تصاویر پر سے ٹیگز کو کیسے ہٹایا جا سکتا ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ سب اس کی جانب سے صارفین کے لیے نئی سہولیات ہیں جن کی مدد سے وہ سائٹ پر اپنی اشیا آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سب فیس بک کی جانب سے مختلف چیزوں کو آسان بنانے اور ویب سائٹ کی ترتیب کا ایک طریقہ ہے جس کے بعد وہ اپنا ایک سرچ انجن جاری کرے گی۔

فیس بک کی سینئیر پرائیویسی آفیسر ایرن ایگن نے بی بی سی کو بتایا ’ہم اپنے صارفین کو حیران نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہر ایک کو چاہتے ہیں کہ وہ سمجھیں کہ وہ کیسے اپنی معلومات پر اختیار رکھتے ہیں تاکہ وہ ویب سائٹ پر بہترین وقت گزاریں۔ یہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو بہتر کریں۔‘

نئی تبدیلیوں کے تین نمایاں نکات یہ ہیں۔

  • پرائیویسی شارک کٹس کے ذریعے اب ویب سائٹ پر ایک نیا آئکن بنایا گیا ہے جو ٹول بار میں نظر آئے گا اور صارفین کے لیے اس پر تین سوالات ہوں گے جس تک وہ کسی بھی ویب سائٹ یا صفحے سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پر صارف سے جو تین سوالات پوچھے جائیں گے وہ یہ ہیں۔ کون میری چیزیں (اس سے مراد تصاویر، کمنٹس، ویڈیو اور دوسری تمام معلومات جو فیس بک پر نظر آ سکتی ہیں) دیکھ سکتا ہے؟ کون مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے؟ میں کیسے کسی تنگ کرنے والے کو روک سکتا ہوں؟
  • فیس بک اب پراڈکٹ ایجوکیشن میں صارفین کو بتائے گا کہ ان کا ویب سائٹ پر شائع کیا گیا مواد کہاں کہاں نظر آئے گا۔ اس میں صارفین کو یہ یادہانی بھی کروائی جائے گی کہ بے شک کچھ چیزیں ہماری ٹائم لائن پر نظر نہیں آئیں گیں مگر ہو سکتا ہے کہ وہ سرچ کے نتیجے میں نیوز فیڈ یعنی معلومات کے صفحے پر یا دوسری جگہوں پر ظاہر ہوں۔
  • ریکویسٹ اور ریموول ٹول یعنی ایسے سہولیات جن سے صارفین ایک بٹن یا ٹیب پر جا کر کئی تصاویر کو بیک وقت سلیکٹ کر کے اپنا نام ان سے ہٹا سکتے ہیں یا ٹیگ ہٹا سکتے ہیں۔ اس زریعے سے وہ ایسے کسی شخص کو ایک براہ راست پیغام بھی بھجوا سکتے ہیں کہ وہ ان کا نام ’ان ٹیگ‘ یا ہٹا دے۔

دوسری تبدیلیوں میں سے فیس بک کے علاوہ دوسروں کی بنائی ہوئی ایپلیکیشنز کے لیے آپ کی اجازت کا عمل اور ایکٹیوٹی کا ایک بٹن جس سے آپ فیس بک پر اپنی شائع کردہ تمام اشیا ایک جگہ دیکھ سکیں گے۔

ایرن ایگن نے بتایا کہ یہ تمام نئی جدتیں فیس بک کے صارفین کے لیے اس ماہ جاری کی جائیں گیں اور ایک بلین سے زیادہ صارفین کو اس بارے میں پیشگی اطلاع دی جائے گی۔

سرچ می (مجھے تلاش کیجئے)

سرچ می جس کا مطلب ہے مجھے تلاش کیجئے اور یہ ایک بہت بڑا نیا مسئلہ ہے جس پر فیس بک کے صارفین اور پرائیویسی کے لیے کام کرنے والے لوگ پریشان ہیں۔

یہ بات فیس بک نے شروع سے واضح رکھی ہے کہ وہ مستقبل میں سرچ یعنی انٹرنیٹ پر سرچ یا تلاش کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور اسے اپنی ویب سائٹ کا ایک نمایاں حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ستمبر میں ایک کانفرنس میں یہ بات کہی تھی کہ وہ ایک سرچ انجن بنانا چاہتے ہیں جس کی بنا پر بعض کا خیال ہے کہ یہ سب اسی سمت ایک اور قدم ہے۔

تحقیقاتی فرم اووم کے مارک لٹل کا کہنا ہے کہ ’جہاں ایک طرف سرچ انجن کا بنایا جانا فیس بک کے لیے بہت زیادہ مالی منافع کا باعث بنے گا وہیں پرائیویسی سے متعلق تازہ خدشات بھی سامنے لائے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ فیس بک اپنے صارفین کی معلومات کو بہتر طریق پر ترتیب دے گا تاکہ دوسرے انہیں آسانی سے تلاش کر سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں نہیں پتا کہ کیا معلومات لوگوں کی رسائی میں ہوں گی لیکن میرا اندازہ ہے کہ فیس بک لوگوں کو یہ موقع دے گی کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کیا لوگوں سے کے ساتھ اپنی معلومات شیئر کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ لیکن یہ دلچسپ ہوگا کہ فیس بک یہ کیسے کرے گا۔‘

یہ سب کچھ ایک ایسے وقت پر کیا جارہا ہے جب فیس بک صارفین کی معلومات کے بارے میں اپنے کام کے طریق بہتر بنا رہا ہے۔ فیس بک کے پانچ لاکھ کے قریب صارفین نے ان تبدیلیوں کے حق میں ووٹ دیا جبکہ بہت بڑی اکثریت نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔

فیس بک نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ فیس بک کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا ووٹ تھا مگر تمام صارفین کے تیس فیصد سے کم نہ ووٹ دیا تھا جس کی وجہ سے تبدیلیاں اب جاری کی جائیں گیں۔

اس ووٹنگ پر مارک لٹل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بلین سے زائد صارفین کو ’ووٹ کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دینا کافی نہیں تھا جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے صارفین ہر ہفتے فیس بک پر نہیں جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔