انسٹاگرام کی صارفین کی تصاویر بیچنے کی تردید

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 20:38 GMT 01:38 PST

اس سال اپریل میں فیس بک نے انسٹاگرام کو ایک بلین ڈالر میں خریدا تھا

فیس بک کی فوٹو شیئرنگ کی سائٹ انسٹا گرام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کی تصاویر اشتہاری کمپنیوں کو بیچنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

انسٹاگرام کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ بظاہر انسٹاگرام کی نئی پرائیوسی پالیسی کے تحت اس کو حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنے صارفین کی تصاویر فروخت کر بیچ سکے گی۔

انسٹاگرام کے شریک بانی کوین سیسٹروم نے ایک بلاگ پر کہا کہ سائٹ استعمال کے شرائط کو تبدیل کرکے فوٹو بیچنے کے مسئلے کی وضاحت کرےگی۔ انہوں نے اس بات پر اسرار کیا کہ انسٹاگرام نے صارفین کے تصاویر پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا۔

انسٹاگرام سماجی رابطہ کی ویب سائٹ فیس بک کی ویب سائٹ ہے۔ انسٹاگرام کے مطابق اگر صارفین اس پالیسی سے متقفق نہیں ہیں تو وہ اپنا انسٹاگرام کا اکاؤنٹ سولہ جنوری تک بند کرسکتے ہیں۔ اس تاریخ کے بعد صارفین کو اکاؤنٹ بند کرنےکی آپشن نہیں ہو گی۔

اس نئی پالیسی کے تحت انسٹاگرام اپنے صارفین کی معلومات فیس بک کے علاوہ اشتہاری کمپنیوں کے ساتھ بھی شیئر کرے گی۔

یاد رہے کہ اس سال اپریل میں فیس بک نے انسٹاگرام کو ایک بلین ڈالر میں خریدا تھا۔

انسٹاگرام سائٹ پر شائع ہونے والی نئی پرائیوسی پالیسی میں لکھا ہے ’ہم آپ کی مختلف طریقوں سے لی گئی معلومات جیسے کہ کوکیز، لاگ فائلز اور شناخت اور جس علاقے میں آپ ہیں ان تنظیموں سے شیئر کرسکتے ہیں جو ہمیں اس سروس کو آپ تک لانے میں مدد کرتی ہیں ۔۔۔ اور اشتہاری پارٹنرز کے ساتھ بھی۔‘

تاہم انسٹاگرام کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ فیس بک کے ساتھ کام کرنا آسان ہو سکے۔

انسٹاگرام نے بیان میں مزید کہا ہے کہ نئی پالیسی میں فوٹوز کی ملکیت کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کہ کسی کو تصاویر تک رسائی حاصل ہو۔

لیکن اس نئی پالیسی کو سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کئی افراد نے اکاؤنٹ بند کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

ایک شخص نے ٹوئٹر پر لکھا ’خدا حافظ انسٹاگرام۔ تمہاری نئی پالیسی احمقانہ ہے۔‘ نیویارک کے ایک فوٹوگرافر نے لکھا ہے کہ نئی پالیسی انسٹاگرام کا خودکشی کا نوٹ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے باعث فیس بک کی شبیہ کو بہت نقصان پہنچے گا اور کئی صارف اس کو چھوڑ بھی سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔