مایا کیلینڈر کے معتقدین ’قیامت‘ کے منتظر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 06:22 GMT 11:22 PST

اکیس دسمبر مایا کیلنڈر کا آخری دن

اکیس دسمبر مایا کیلنڈر کا آخری دن

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

اکیس دسمبر کو دنیا کے خاتمے پر یقین رکھنے والے افراد نے اس دن کے حوالے سے خصوصی تیاریاں کر لی ہیں۔

اکیس دسمبر دو ہزار بارہ ہزاروں سال قدیم مایا تہذیب کے کیلینڈر کی آخری تاریخ ہے اور میکسیکو اور وسطی امریکہ کے کچھ علاقوں کے قبائلی اسے قیامت کا دن قرار دیتے ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تاریخ کی تشریح صحیح انداز میں نہیں کی گئی اور یہ تاریخ دنیا کے خاتمے کی نہیں بلکہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

اس دن کے حوالے سے ہزاروں افراد نے میکسیکو اور وسطی امریکہ میں مایا تہذیب کی قدیم عبادت گاہوں کا رخ کیا ہے جبکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی اس سلسلے میں روحانی محافل منعقد کی جا رہی ہیں۔

سینکڑوں افراد میکسیکو میں مریدا نامی شہر میں جمع ہوئے ہیں جو کہ مایا تہذیب کے کھنڈرات سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

اسی طرح فرانس کے جنوبی حصے میں واقع پہاڑ بگاراچ کے بارے میں بھی یہ مشہور ہوا ہے کہ وہاں موجود افراد پر قیامت کے اثرات نہیں پڑیں گے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں نہ صرف معتقدین بلکہ صحافیوں کی بڑی تعداد بھی پہنچی ہے۔

روس میں تو لوگ اتنا ڈرے ہوئے ہیں کہ وہاں ہنگامی حالت کے وزیر کو یہ اعلان کرنا پڑا ہے کہ اکیس دسمبر کو دنیا ختم نہیں ہو رہی ہے۔

سینکڑوں افراد میکسیکو میں مریدا نامی شہر میں جمع ہوئے ہیں

ادھر چین میں پولیس نے اس دن قیامت آنے کی پیشنگوئی پر یقین رکھنے والے ایک مسیحی گروپ کے تقریباً ایک ہزار ارکان کو گرفتار کیا ہے۔ ان افراد پرگمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

بیجنگ میں پولیس نے ایک آن لائن نوٹس جاری کیا ہے جس میں عوام سے کہا گیا ہے کہ دنیا کے خاتمے کی باتیں صرف افواہیں ہیں جن پر وہ کان نہ دھریں۔

گراہم ہینکاك مایا تہذیب کی بنیاد پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مایا تہذیب کے لوگ قدیم دور میں وسطی امریکہ کے انتہائی ترقی یافتہ لوگ تھے۔ تقریباً دو ہزار سال پہلے یہ تہذیب ابھر کر آئی تھی لیکن اس تہذیب کے لوگ سب سے زیادہ مایا کیلنڈر کی وجہ سے جانے جاتے ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اسے آج کی زبان میں پڑھیں تو اس کی شروعات قبل مسیح 3114 سال سے ہوتی ہے اور اس سے 2012 میں 21 دسمبر کو موجودہ دور ختم ہو جاتا ہے۔ اس میں ایک بات اور واضح ہے اور وہ یہ کہ اس کے حساب سے 22 دسمبر 2012 سے ایک نئے دور کی شروعات ہوتی ہے‘۔

امریکی خلائی ادارے ناسا سے وابستہ سائنسدان ڈیوڈ مرسن کا کہنا ہے کہ ’ایسی تمام باتیں جن میں لوگ دنیا کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں، مثلا مایا تہذیب کی پیشن گوئی یا پھر آنے والے سیارے نبرو سب جھوٹی ہیں۔ ان کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے. یہ سب محض فینٹسي ہے اور کچھ نہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔