انٹارکٹیکا میں بڑھتے درجۂ حرارت پر خدشات

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 09:03 GMT 14:03 PST

سائنسدانوں کو تشویش ہے کہ زیادہ درجۂ حرارت سے انٹارکٹیکا میں برف پگلنے کی رفتار تیز ہو رہی ہے

امریکہ میں ایک نئی تحقیق کے مطابق مغربی انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کے درجۂ حرارت میں گذشتہ اندازوں کی نسبت تقریباً دوگنی رفتار سے اضافے ہو رہا ہے۔

امریکی محققین کا کہنا ہے کہ انہیں برف کی گرمائش کے شواہد جنوبی نصف کرۂ عرض میں گرمیوں کے موسم میں ملے۔

نئی تحقیق کے مطابق 1958 سے 2010 تک درجۂ حرارت اوسطاً دو اعشاریہ چار سینٹی گریڈ بڑھا ہے۔

سائنسدانوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ زیادہ درجۂ حرارت سے انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہو رہی ہے جس سے سطحِ سمندر بلند ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ تحقیق نیچر جیو سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف اور امریکہ میں ماحولیاتی تحقیق کے قومی مرکز سے وابستہ اینڈریو موناگن کا کہنا ہے کہ ’ہم زمین پر شدیدگرمی کے اشارے دیکھ رہے ہیں اور یہ پہلی دفعہ ہے کہ ہمیں اندازہ ہو رہا ہے کہ گرمیوں میں زمین گرم ہو رہی ہے۔‘

یہ توقع کرنا فطرتی سی بات ہے کہ گرمیاں انٹارکٹیکا میں بھی دوسرے موسموں کے مقابلے میں گرم ہوں گی لیکن یہ علاقہ اتنا ٹھنڈا ہے کہ شاذونادر ہی درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے اوپر جاتا ہے۔

"عالمی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مغربی انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کو زیادہ درجۂ حرارت پہنچتا ہے"

ڈاکٹر انڈریو موناگن ،محقق

تحقیق کے شریک مصنف اور اوہایو سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ برموچ کے مطابق یہ سنجیدہ طور پر آخری حد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’درحقیقت درجۂ حرارت گرمیوں میں بڑھنے کا مطلب ہے کہ انٹارکٹیکا میں برف کی تہیں نہ صرف نیچے سے پگھلتی ہیں جیسا کہ ہم جانتے ہیں بلکہ مستقبل میں امکانات ہیں کہ یہ اوپر سے بھی پگھلیں گی۔‘

سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران بائرڈ سٹیشن میں ریکارڈ شدہ معلومات(ڈیٹا) سے نتائج اخذ کیے ہیں۔

بائرڈ سٹیشن امریکہ نے مغربی انٹارکٹیکا کی برف کی تہہ یا ویسٹ انٹارکٹیکا آئس شیٹ (ڈبلیو، اے، آئی، ایس) کے مرکزی حصے پر 1950 کی نصف دہائی میں بنایا تھا۔

اس سے پہلے سائنسدان بائرڈ سٹیشن سے لیے گئے ڈیٹا سے نتائج اخذ نہیں کر سکے تھے کیونکہ حاصل شدہ ڈیٹا میں ریکارڈ پورا نہیں تھا۔

نئی تحقیق میں معلومات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ماحولیات اور اعداد وشمار کے تجزیوں کے کمپیوٹر ماڈل استعمال کیے گئے ہیں۔

نیچر جریدے میں شائع پرانی تحقیق میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ انٹارکٹیکا میں برف کی تہیں سمندر کی وجہ سے گرم ہو جاتی ہیں لیکن نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برف کی تہوں کی گرمائش میں ماحول کا بھی اثر ہے۔

بائرڈ سٹیشن امریکہ نے مغربی انٹارکٹیکا کے برف کی تہہ کے مرکزی حصے کی طرف 1950 کی نصف دہائی میں بنایا تھا

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ درجۂ حرارت بڑھنے کی وجہ بحراوقیانوس میں ہواؤں میں تبدیلی اور موسمی تغیرات ہیں۔

ڈاکٹر انڈریو موناگن نے کہا کہ ’عالمی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مغربی انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کو زیادہ گرمی پہنچتی ہے۔‘

تاہم وہ یہ تصدیق کرنے سے قاصر تھے کہ درجۂ حرارت بڑھنے کی ایک وجہ وہاں ہونے والی انسانی نقل و حرکت بھی ہے۔

گرمائش کی جو بھی وجہ ہو لیکن سائنسدان اس بات پر پریشان ہیں کہ اس سے مزید برف پگھلے گی جس کا بلا واسطہ اور بالواسطہ اثر پوری دنیا میں سطح سمندر پر ہو گا۔

زیادہ درجۂ حرارت کی وجہ سے برف کی تہوں کے کناروں کے ساتھ جڑی ہوئی برف گرم ہو کر ٹوٹ جاتی ہے جیسا کہ 2002 میں انٹارکٹیکا میں لارسن بی ساحلی برف کے ساتھ ہوا تھا۔

ڈاکٹرانڈریو موناگن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مغربی انٹارکٹیکا میں بھی ساحلی برف ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بائرڈ سٹیشن سے لیا گیا ڈیٹا علاقے کے ماحول کے بارے میں اندازہ لگانے کے لیے موزوں ہے کیونکہ معلومات لینے کے لیے سائنسی پوسٹس پورے علاقے میں یکساں حالات والی مناسب جگہوں اور فاصلے پر بنائیں گئی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔