برطانیہ میں سوشل میڈیا پر جرائم میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 23:49 GMT 04:49 PST

2012 میں سوشل میڈیا پر ہونے والے جرائم کی پاداش میں 653 افراد کو سزا سنائی گئی

برطانوی پولیس کے مطابق برطانیہ میں سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک اور ٹوئٹر پر ہونے والے مبینہ جرائم پچھلے چار سال میں آٹھ گنا بڑھ گئے ہیں۔

انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کی 29 پولیس فورسز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2012 میں 4908 جرائم درج کیے گئے جن میں سے 653 افراد کو جرم ثابت ہونے کے بعد سزا سنائی گئی۔

پولیس کے مطابق یہ اعداد و شمار پولیس کے سامنے مزید مشکلات پیش کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے اس طرح کے کیسوں کے بارے میں عبوری ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ ان سے کیسے نمٹنا ہے۔ اس سے پہلے انگلینڈ اور ویلز میں کچھ متنازع عدالتی مقدمات سامنے آئے تھے۔

2012 میں ایک شخص پال چیمبرز کی جانب سے ٹوئٹر پر مذاق پر انہیں دی گئی سزا پر شدید تنقید کی گئی جس کے بعد اسے ختم کر دیا گیا تھا۔ پال نے ٹوئٹر پر یارک شائر میں واقع رابن ہڈ ہوائی اڈہ اڑانے کے بارے میں مذاق کیا تھا۔

یہ معلومات پولیس کی جانب سے آزادیِ معلومات ایکٹ کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں۔

2008 میں جب سوشل میڈیا پر بہت کم کچھ دیکھنے کو ملتا تھا اس وقت 556 مبینہ جرائم کی رپورٹ کی گئی جن کے نتیجے میں 46 افراد کو سزا دی گئی تھی۔

"سوشل میڈیا پر کئی قسم کے جرائم ہوتے ہیں جیسا کہ تنگ کرنا ہراساں کرنا، اور ایسا تشدد جس سے حقیقی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ یہ وہ جرائم کی اوپری حد ہے جس کے اندر ہونے والے جرائم پر پولیس کو توجہ دینی چاہیے۔"

چیف کانسٹیبل اینڈی ٹروٹر

پولیس آفیسرز ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے چیف کانسٹیبل اینڈی ٹروٹر نے کہا کہ یہ اہم ہے کہ پولیس سوشل میڈیا پر ہونے والے جرائم کو ترجیحی انداز میں دیکھے اور اہم اور غیر اہم کی تفریق کر کے انہیں حل کرے کیونکہ ان سے حقیقی تکلیف اور نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بات کریں یہاں تک کے ایک دوسرے سے مغرورانہ انداز اور غیر رضامندی کے انداز میں بات کریں اور اس بات کے بارے میں فیصلے کے حوالے سے پولیس کی شمولیت کی کوئی ضرورت نہیں کہ پولیس اس معاملے میں کوئی فیصلے کرتی پھرے، مگر اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر کئی قسم کے جرائم ہوتے ہیں جیسا کہ تنگ کرنا، ہراساں کرنا اور ایسا تشدد جس سے حقیقی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ یہ وہ جرائم کی اوپری حد ہے جس کے اندر ہونے والے جرائم پر پولیس کو توجہ دینی چاہیے۔‘

سوشل میڈیا پر ہونے والے جرائم میں ویب سائٹس پر گالیوں بھرے پیغامات چھوڑنے سے لے کر حقیقت میں ایسی حرکتیں کرنا جس سے تشدد کا اندیشہ ہو یا تشدد واقع ہو اسی طرح جنسی ہراساں اور دھمکی آمیز پیغامات دینا بھی شامل ہیں۔ فراڈ، کسی کا غیر ضروری پیچھا کرنا اور کم عمر بچوں سے جنسی تعلقات کی نظر سے دوستی کرنا بھی ان جرائم میں شامل ہیں۔

مانچسٹر کے علاقے میں سب سے زیادہ سوشل میڈیا کے حوالے سے جرائم دیکھنے میں آئے جن کی تعداد 115 تھی جب کہ لنکا شائر کے علاقے سے چھ قتل کی دھمکیوں کے کیس سامنے آئے۔

اینڈی ٹروٹر نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو بھی ان جرائم نے ہونا تھا۔ پولیس اس لیے زیادہ محتاظ ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے جرائم یا کارروائیوں سے عوام میں زیادہ بے چینی پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کےبہت سے فورمز پر لوگ خود حدود کا خیال رکھتے ہیں اور غلط قسم کے رویے کی وہیں بیخ کنی ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔