مذہب سے دوری اور روحانیت سے لگاؤ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 04:22 GMT 09:22 PST

برطانیہ میں بیس فیصد افراد خود کو روحانیت سے وابستہ قرار دیتے ہیں

محققین کا کہنا ہے کہ روحانیت سے لگاؤ رکھنے والے افراد کی ذہنی صحت روایتی طور پر مذہب سے لگاؤ رکھنے والوں، مادہ پرست یا دہریے افراد کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب لوگ خود کو مذہبی کی جگہ روحانی لگاؤ رکھنے والا قرار دیتے ہیں تو ان کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

روحانیت ایک ایسی اصطلاح ہے جو آج کل عام استعمال میں ہے۔ چاہے وہ شہزادہ چارلس ہوں یا یارک کے آرچ بشپ کئی اہم شخصیات اسے مذہبی تفریق سے علیحدگی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر مائیکل کنگ کے مطابق اب برطانیہ میں بیس فیصد افراد خود کو روحانیت سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔

امریکہ میں دو ہزار پانچ میں نیوز ویک کے ایک جائزے کے مطابق وہاں یہ تعداد پچیس فیصد کے لگ بھگ تھی جبکہ اکتوبر میں پیو ریسرچ سنٹر کے سروے میں جہاں بیس فیصد افراد نے خود کو لادین ظاہر کیا وہیں ان میں سے سینتیس فیصد نے خود کو مذہبی کی جگہ روحانیت سے وابستہ قرار دیا۔

پروفیسر کنگ کی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں روحانی افراد ذہنی باؤ یا ڈپریشن جیسے امراض کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

دنیا میں اس تحقیق سے اختلاف کرنے والے لوگ یقیناً موجود ہوں گے لیکن یہ بات واضح ہے کہ مغربی ممالک میں خود کو مذہب سے دور مگر روحانیت سے لگاؤ رکھنے والا قرار دینے والوں کی کمی نہیں ہے۔

مصنف مارک ورنون کا کہنا ہے کہ اس قسم کے روحانی لگاؤ کی ایک اہم وجہ یہ خیال ہے کہ مذہب جدید اقدار کے ساتھ چلنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آج کے دور میں سائنس بہت سے لوگوں کے لیے خدا کا متبادل بن گئی ہے۔‘

لیکن جہاں سائنس دنیا کی تشریح کرنے کے قابل تو ہے وہیں وہ یہ نہیں بتاتی کہ دنیا میں کتنے لوگ اس کائنات میں اپنی موجودگی کے بارے میں سوچتے ہیں۔

ہیبت اور حیرانگی وہ احساسات ہیں جنہیں روحانیت سے لگاؤ رکھنے والے افراد اس دنیا سے اپنا رشتہ بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ دنیا پیسے، روزگار اور روزمرہ کے کاموں سے کہیں آگے کی چیز ہے۔

سورج غروب ہونے کا منظر ہو یا کوئی دھن یا پھر کسی سٹیڈیم میں جمع افراد کا شور، ان افراد کی زندگی میں ایسے لمحات ہوتے ہیں جو ان کی زندگی میں محرک کا کام کرتے ہیں۔

انٹیڈوٹ نامی کتاب کے مصنف اولیور برکمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’مذہبی نہیں روحانی‘ کی اصطلاح اگرچہ ایک قسم کا مذاق بن کر رہ گئی ہے لیکن یہ خیال ایسا ہے کہ اس کا دفاع کیا جائے۔ ’میرے نزدیک روحانیت وہ ہے کہ جس کا الفاظ میں بیان ممکن نہ ہو۔ یہ انسانی تجربات کی وہ شکل ہے جس کے بارے میں سوچا نہیں جا سکتا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اعتقاد سے کچھ زیادہ ہے‘ جیسا کہ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے عبادت کا طریقہ بھی اعتقاد جتنا ہی اہم ہے۔

جنوبی لندن میں مراقبہ کرنے والے گیٹن لوئی کیننویل کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی خدا کی عبادت نہیں کر رہے نہ ہی آسمان میں موجود کسی کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ یہ تو فنا اور حال میں جینے جیسی باتوں کو تسلیم کرنے کی تربیت ہے۔ اگر آپ اس کی جھلک بھی دیکھ لیں کہ حال کو قبول کر کے آپ کتنا خوش ہو سکتے ہیں تو آپ کے گڈمڈ خیالات ختم ہو جاتے ہیں۔‘

مراقبہ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر کولن بیکلے کا کہنا ہے کہ اصل روحانی تجربہ صرف خاموشی ہے۔ ’فنا کا خیال اکثر فطرت کے قریب جانے جیسے کہ کسی پہاڑ پر جا کر آتا ہے لیکن مراقبے سے آپ اسے اپنے فلیٹ میں بیٹھ کر بھی محسوس کر سکتے ہیں۔‘

لیکن کچھ افراد کے لیے روحانیت بےبنیاد خیالات کا دوسرا نام ہے۔ نیویارک کے تھنکرز سیلون کے ڈائریکٹر ایلن ملر کا کہنا ہے کہ ’مذہبی نہیں روحانی‘ کا نعرہ کسی قسم کے اصول وضع نہیں کرتا۔

اسی طرح منظم مذاہب سے وابستہ افراد بھی اس روحانی خیالات کو رد کرتے ہیں۔ لندن انسٹیٹیوٹ آف کنٹمپریری کرسچینیٹی سے وابستہ برائن ڈریپر کہتے ہیں کہ ’لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اس بڑی تصویر میں کہاں جڑتے ہیں جو کہ ایک شاندار بات ہے لیکن ان کے خیالات منتشر ہیں اور بہت سے افراد کے خیالات کی بنیاد ایسے سائنسی خیالات پر ہیں جن کا وجود ہی نہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔