’کہکشاں میں زمین جیسے سترہ ارب سیارے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 8 جنوری 2013 ,‭ 09:27 GMT 14:27 PST

کانفرنس میں چار سو اکسٹھ نئے سیاروں کی دریافت کا اعلان بھی کیا گیا

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ ہماری کہکشاں میں زمین کے برابر حجم کے سترہ ارب سیارے پائے جاتے ہیں اور ہر چھ ستاروں میں سے ایک کے مدار میں ایسا ایک سیارہ گردش کر رہا ہے۔

یہ نتائج کیپلر خلائی دوربین سے حاصل شدہ ڈیٹا میں ایسے اجرامِ فلکی کے تجزیے کے بعد سامنے آئے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارے ہو سکتے ہیں۔

کیپلر ٹیم نے مکمل تجزیے کے بعد چار سو اکسٹھ نئے سیاروں کی دریافت کی تصدیق کی ہے جس کے بعد دریافت شدہ سیاروں کی تعداد دو ہزار سات سو چالیس تک پہنچ گئی ہے۔

ان نتائج کا اعلان کیلیفورنیا میں امریکی فلکیاتی سوسائٹی کے دو سو اکیسویں سالانہ اجلاس میں کیا گیا۔

دو ہزار نو سے کیپلر کی عدسے آسمان کے ایک مخصوص حصے میں جھانک رہے ہیں اور اس کی حدِنظر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ستارے موجود ہیں۔

یہ دوربین سیارہ سامنے سے گزرنے کی صورت میں ستارے کی روشنی میں آنے والی مدھم سے کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم یہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ جہاں ایک طرف روشنی میں یہ کمی بےحد معمولی ہوتی ہے وہیں ہر بار یہ بھی ممکن نہیں کہ ایسا کسی ستارے پر ہو رہا ہو۔

چنانچہ ہارورڈ کے سمتھسونین سنٹر فار آسٹروفزکس کے ڈاکٹر فرانسوا فریسن نے نہ صرف یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیپلر کے دریافت کردہ اجرامِ فلکی میں سے کون سے سیارے نہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ کون سے ایسے سیارے ہیں جنہیں کیپلر کی آنکھ بھی نہیں دیکھ پاتی۔

بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں دو چیزوں کے لیے درستگی درکار ہے۔ پہلی یہ کہ کیپلر کی فہرست نامکمل ہے۔ ہم صرف وہی سیارے دیکھتے ہیں جو اپنے ستارے کے سامنے سے گزر رہے ہوں۔ ایسے ستارے جن کا کوئی سیارہ ہے جو اس سمت میں ہے کہ ہم اسے دیکھ پا رہے ہیں جبکہ درجنوں ایسے بھی ہیں جو اس حالت میں نہیں ہیں۔‘

کیپلر دوربین

دو ہزار نو سے کیپلر کی عدسے آسمان کے ایک مخصوص حصے میں جھانک رہے ہیں اور اس کی حدِنظر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ستارے موجود ہیں۔ یہ دوربین سیارہ سامنے سے گزرنے کی صورت میں ستارے کی روشنی میں آنے والی مدھم سے کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم یہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ جہاں ایک طرف روشنی میں یہ کمی بےحد معمولی ہوتی ہے وہیں ہر بار یہ بھی ممکن نہیں کہ ایسا کسی ستارے پر ہو رہا ہو۔

دوسری تصحیح ممکنہ سیاروں کی فہرست میں ضروری ہے۔ ان میں سے کچھ حقیقی سیارے نہیں بلکہ دیگر اجرامِ فلکی ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ستارے بھی ہو سکتے ہیں جو دیگر ستاروں کے گرد گردش کرتے ہوں۔

ڈاکٹر فریسن کے مطابق تمام ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد حاصل شدہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سترہ فیصد ستاروں کے ایسے سیارے ہیں جو زمین سے سوا گنا بڑے ہیں اور ان کی گردش کا دورانیہ عطارد کی طرح پچاسی دن یا اس سے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب بھی ہے ہماری کہکشاں میں کم از کم زمین جیسے حجم والے سترہ ارب سیارے پائے جاتے ہیں۔

سیتی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر کرسٹوفر برک نے اس کانفرنس میں چار سو اکسٹھ نئے سیاروں کی دریافت کا اعلان بھی کیا جن میں سے چار سیارے حجم میں زمین سے دوگنا سے کچھ کم بڑے ہیں اور وہاں زندگی پنپنے کے امکانات بھی ہیں۔

ڈاکٹر برک کے مطابق ’ان چار میں سے ایک جسے کے او آئی 17202 کا نام دیا گیا ہے زمین سے صرف ڈیڑھ گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر دوسری زمین کی دریافت کے نزدیک ترین پہنچنے جیسی چیز ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔