چین: قدیم اور موجودہ انسانوں کا تعلق

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 11:23 GMT 16:23 PST

چین میں بسنے والے آج کے انسانوں اور جدید انسان کی نسل جو اس خطے میں آکر بسے تھے کے درمیان محققین تعلق جوڑنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

یہ ثبوت چالیس ہزار سال پرانی ایک ٹانگ کی ہڈی کے ڈی این اے ٹیسٹ سے حاصل کیے گئے ہیں جسے بیجنگ کے قریب ایک غار سے حاصل کیا گیا تھا۔

اس ٹیسٹ کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ یہ ٹانگ ایک ایسے شخص کی ہے جو آج کے دور کے ایشیائی اور امریکہ کے اصل باشندوں سے تعلق رکھتا تھا۔

یہ تحقیق ایک جریدے پی این اے ایس میں شائع کی گئی ہے۔

چالیس ہزار سے پچاس ہزار سال قبل یوریشیا سے ملنے والے فوسلز کے ریکارڈ میں آج کے انسان سے ملتے جلتے انسان کے قریب ترین نظر آئے۔

اس کے باوجود ابھی بہت سارے سوالات ہیں جو ابتدائی انسانوں کے اور آج کے دور کے ہومو سیپئنز کی آبادی کے باہمی جینیاتی تعلق کے بارے میں باقی ہیں۔

مثال کے طور پر بعض ثبوت آخری برفانی دور کے بعد یورپ کی جانب بڑی تعداد میں ہجرت کا عندیہ دیتے ہیں۔

اسی طرح چین ہی کی سرخ غار سے ملنے والے فوسلز اور نائجیریا کے آوو ایلیرو بھی قدیم پلیسٹوسین انسانوں کے درمیان نامعلوم تعلق کی جانب نشاندہی کرتے ہیں۔

اس تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم دو ہزار تین میں بیجنگ کے قریب تیان یوان کے ایک غار سے ملنے والی ٹانگ سے جینیاتی مواد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس ٹیم نے جوڈی این اے کی قسم حاصل کی وہ خلیوں کے مرکزے یا نیوکلیائی اور جین کے اندر پائے جانے والے مائٹو کانڈریا میں پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے ایک نئی تکنیک کا استعمال کیا جس کے ذریعے آثارِ قدیمہ سے دریافت ہونے والی اشیاء کی جیناتی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں ایسی صورت میں بھی جہاں ڈی این اے میں بہت بڑی مقدار میں زمینی بیکٹیریا بھی موجود ہوتا ہے۔

اس شخص کے ڈی این اے کے جائزے نے ظاہر کیا کہ یہ آج کے دور کے ایشیائی اور امریکہ کے اصل باشندوں کے آباؤ اجداد کا رشتے دار تھا۔ مگر جائزے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ اس شخص نے پہلے ہی آج کے دور کے یورپی لوگوں کے آباؤ اجداد سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔