امریکہ: سرکاری ویب سائٹ کی ہیکنگ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 27 جنوری 2013 ,‭ 00:15 GMT 05:15 PST

امریکہ میں ہیکرز کے بین القوامی گروہ جو اپنے آپ کو ’انانی مس‘ یا گمنام کہلاتا ہے نے ایرون سوارٹز کی موت کے ردِ عمل میں امریکی حکومت کی ایک ویب سائٹ کو ہیک کر لیا ہے۔

اس گروپ کے کارکنوں نے امریکی حکومت کے ادارے یونائیٹڈ سٹیٹس سنٹینسنگ کمیشن(یو ایس ایس سی) یا سزا دینے والے کمیشن کی ویب سائٹ کے پہلے صفحے پر ہیکنگ کے بعد ایک ویڈیو پیغام لگایا ہے۔

یو ایس ایس سی امریکہ میں وفاقی عدالتوں کو سزائیں دینے میں رہنمائی دیتی ہے۔

ہیکرز نے اس حملے کو ’آپریشن آخری حربہ‘ کا نام دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ویب سائٹ کو علامتی وجوہات کی بنا پر چنا تھا۔

اس گروپ کے کارکنوں نے لگائے گئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ’سزائیں دینے کے لیے رہنمائی دینے کا ادارہ استغاثہ کے وکلاء کی شہرویوں کو انصاف پر مبنی مقدمے کے حقوق سے محروم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جوکہ آئین کی آٹھویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ترمیم ظالمانہ سزا سے تحفظ دیتی ہے۔‘

"دو ہفتے پہلے ایک حد پار کی گئی تھی۔دو ہفتے پہلے ایرون سوارٹز کو قتل کیا گیا۔ اس لیے قتل کیا گیا کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس لیے قتل کیا گیا کہ انہیں ایک ایسا کھیل کھیلنے پر مجبور کیا گیا جو وہ نہیں جیت سکتا تھا"

نامعلوم ہیکرز

اس ویڈیوں پیغام میں انٹرنیٹ کے کارکن ایرون سوارٹز کی موت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ایرون نے جنوری میں خودکشی کی تھی۔

ویڈیو پیغام میں کہا گیا تھا کہ ’دو ہفتے پہلے ایک حد پار کی گئی تھی۔ دو ہفتے پہلے ایرون سوارٹز کو قتل کیا گیا۔ اس لیے قتل کیا گیا کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس لیے قتل کیا گیا کہ انہیں ایک ایسا کھیل کھیلنے پر مجبور کیا گیا جو وہ نہیں جیت سکتا تھا۔‘

ویب سائٹ پر لگائی گئی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آدھی رات کو شروع ہوا جس کے بعد دن کو ویب سائٹ کام نہیں کر رہی تھی۔

ہیکرز کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ججوں کے متعلق اندرونی معلومات ہیں جنہیں جاری کیا جا سکتا ہے۔

اس ’گمنام‘ نامی ہیکرز کے گروہ کی جانب سے گزشتہ کئی مہینوں میں کئی حملے کیے گئے ہیں۔

جمعرات کو اسی گروپ کی طرف سے رقم منتقل کرنے والے سروس ’پے پال‘ پر حملے میں حصہ لینے والے دو برطانوی شہریوں کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

برطانیہ اور دوسری کئی حکومتوں کے ویب سائٹس پر بھی اس گروہ کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ ایرون سوارٹز پر الزام تھا کہ انہوں نے میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکلنالوجی (ایم آئی ٹی) کی نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے تعلیمی خدمات دینی والی ویب سائٹ جے سٹور سے غیر قانونی طور پر تحقیقاتی مقالے ڈاؤن لوڈ کیے تھے۔

چھبیس سالہ ایرون سوارٹز کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خودکشی کی تھی۔

سوارٹز نے گذشتہ سال ہونے والی شروعاتی شنوائی میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا تھا لیکن ان کے خلاف وفاقی سطح کے مقدمے کی شنوائی آئندہ ماہ شروع ہونے والی تھی۔

اگر ان کو اس جرم کا مرتکب پایا جاتا تو انہیں ایک ملین امریکی ڈالر جرمانے کے ساتھ 35 سال کی سزا ہو سکتی تھی۔

ایرون کے خاندان نے ان کی موت کے بعد کہا تھا کہ ’ایرون سوارٹز کی موت صرف ایک ذاتی سانحۂ نہیں بلکہ یہ ایک خراب فوج داری نظامِ انصاف کا نتیجہ ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔