’ڈریم لائنرز کی بیٹری میں نقص نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 14:07 GMT 19:07 PST
بوئنگ 787

جاپان کے بعد امریکہ اور بھارت کے علاوہ یورپی ممالک نے بھی تکنیکی خامیوں کے سبب بوئنگ کے جدید طیارے ڈریم لائنز 787 کو غیر معینہ مدت کے لیے گراؤنڈ کر دیا تھا

جاپان کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ شہری ہوا بازي کے نگراں ادارے نے اپنی تفتیش میں بوئنگ کے جدید طیارے ڈریم لائنز 787 کے جہازوں کی بیٹری میں کوئی نقص نہیں پایا ہے۔

جاپان کے بعد امریکہ اور بھارت کے علاوہ یورپی ممالک میں بھی تکنیکی خامیوں کے سبب بوئنگ کے جدید طیارے ڈریم لائنر 787 کو غیر معینہ مدت کے لیےگراؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس طیارے میں تکنیکی خرابی کی سبب سب سے پہلے جاپان کی دو بڑی ہوائی کمپنیوں آل نپون ایئرویز اور جاپان ایئر لائنز نے اپنے تمام بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

امریکہ میں شہری ہوا بازي کے نگراں ادارے ’دی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن‘ نے بھی ملک کی تمام فضائي کمپنیوں سے کہا ہے کہ بوئنگ 787 کا استعمال عارضی طور پر روک دیا جائے۔

اس فیصلے کی اہم وجہ ان طیاروں میں بیٹری کے مسائل بتائی جاتی ہے جس کی وجہ سے حال ہی میں جاپان کی ہوائي کمپنیوں کے جہازوں میں مسائل پیدا ہوئے تھے۔

امریکہ کی جانب سے اس فیصلے کے بعد ہی بھارت نے بھی اس طیارے کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ اب یورپی ایئر سیفٹی اتھارٹی نے بھی براعظم میں یہ طیارے استعمال کرنے والی کمپنیوں کو طیارے گراؤنڈ کرنے اور ان کے معائنے کا حکم دیا ہے۔

فی الحال یورپ میں صرف پولینڈ کی فضائی کمپنی ’لاٹ‘ یہ طیارے استعمال کر رہی ہے۔

بھارت میں شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹر جنرل ارون مشرا نے بی بی سی کو بتایا ’ کچھ وقت کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ بوئنگ اس بارے میں جب سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کر دےگا تو پروازیں پھر سے شروع ہو سکیں گی۔‘

ادھر بوئنگ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 787 طیارے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ اس طیارے کا حالیہ برسوں میں کافی نام رہا ہے اور کہا جاتا رہا ہے کہ ڈريم لائنر طیاروں میں سفر مسافروں کے لیے ایک نیا تجربہ ثابت ہوگا۔

لیکن بعض تکنیکی مسائل کے سبب اس میں کئی خامیاں نظر آئی ہیں۔ آٹھ جنوری کو جاپان کی قومی ہوائی کمپنی ’جال‘ کے ایک نئے بوئنگ787 ڈریم لائنر مسافر طیارے میں اس وقت آگ لگ گئی جب یہ طیارہ ٹوکیو سے پرواز کر کے بوسٹن کے ہوائی اڈے پر اترا تھا۔

اس سے قبل یہ طیارہ ایندھن کے رسنے، کاک پٹ کی کھڑکی کے شیشے کے ٹوٹنے، بریک کے مسائل اور برقی نظام میں آگ جیسے مسائل سے دوچار ہو چکا ہے۔

بدھ کے روز اے این اے کے ایک طیارے کو پرواز کے فوری بعد بیٹری کے مسائل کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی تھی جس کے بعد ہوائی کمپنی نے طیارے کے استعمال کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بوئنگ کے جدید ترین طیارے کے لیے ایک نیا دھچکا ہے کیونکہ اس سے قبل اس کی تیاری میں بہت تاخیر ہوئی اور بعد میں اسے کئی طرح کی تکنیکی مشکلات کا سامنا ہے۔

اس طیارے کی قیمت دو سو ملین ڈالر سے تین سو ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے اور بھارت کی ایئر انڈیا، امریکہ کی یونائیٹڈ ایئر لائنز اور قطر ایئرویز سمیت دنیا کی آٹھ ہوائی کمپنیاں اب تک فروخت ہونے والے انچاس بوئنگ787 طیارے تیاروں کی مالک ہیں۔ ان انچاس میں سے تئیس صرف جاپان کی دو ہوائی کمپنیوں کے پاس ہیں جبکہ مختلف ہوائی کمپنیوں نے آٹھ سو سے زائد طیاروں کا آرڈر دے رکھا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔