ایران نے ’خلا میں بندر بھیج دیا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 28 جنوری 2013 ,‭ 17:05 GMT 22:05 PST

بندر کو خلا میں بھیجنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے

ایران نے کہا ہے کہ اس نے کامیابی سے خلا میں بندر کو بھیج دیا ہے۔

ایران کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ بندر ’پیش گام‘ نامی راکٹ میں خلا میں بھیجا گیا جس نے 120 کلومیٹر کی بلندی پر واقع مدار میں گردش کی اور اس کے بعد وہ ’بحفاظت‘ زمین پر لوٹ آیا۔

ایرانی ٹی وی پر بیلٹوں میں بندھے ہوئے ایک بندر کو راکٹ کی طرف لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مغربی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے خلائی پروگرام کو دور مار میزائل بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جن میں ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار نصب کیے جا سکتے ہیں۔ ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ایک ماہر پیٹ نورس نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کا بندر کو خلا میں بھیجنے کا دعویٰ اس کے خلائی پروگرام کی ترقی میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران حالیہ برسوں میں 4828 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والے میزائل کئی بار داغ چکا ہے جب کہ اس دوران میزائل پر نصب ہتھیار محفوظ رہے۔

نورس نے کہا کہ البتہ بندر کا زندہ بچ جانا اور اسے کوئی زیادہ چوٹیں نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ راکٹ کی رفتار میں اضافہ اور کمی یک لخت نہیں بلکہ بتدریج کی گئی تھی۔

2010 میں ایران نے ایک چوہے، کچھوے اور کیڑوں کو کامیابی سے خلا میں بھیجا تھا۔ تاہم 2011 میں بندر بھیجنے کا تجربہ ناکام رہا تھا۔

صدر محمود احمدی نژاد نے 2010 میں اعلان کیا تھا کہ ایران 2019 تک انسان کو خلا میں بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ایران نے پہلی بار 2009 میں مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔