برطانیہ، کینسر کے علاج میں مشکلیں کیا ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 12:28 GMT 17:28 PST
کینسر

کینسر سے متعلق معلومات کے باوجود لوگ ڈاکٹر سے صلاح و مشورہ نہیں کرتے

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی شہریوں میں کھل کر بات نا کرنے کا کلچر کینسر کے علاج میں برطانیہ کے پیچھے رہنے کا اہم سبب ہوسکتا ہے۔

ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بہت سے برطانوی اس بیماری سے متعلق ڈاکٹروں سے جلدی صلاح و مشورہ نہیں کرتے۔

محقیقین نے اس سلسلے میں دنیا کے چھ امیر ترین ممالک کے بیس ہزار افراد کا سروے کیا ہے اور انہیں پتہ چلا کہ برطانوی لوگوں کو اکثر شرمندگی ڈاکٹروں کے پاس جانے سے روکتی ہے۔

اس جائزے میں حصہ لینے والے برطانوی افراد بھی آسٹریلیا، کینیڈا، ڈنمارک، ناروے اور سوڈین کے شہریوں کی طرح ہی کینسر کی علامات سے واقف پائے گئے لیکن وہ اس سلسلے میں ڈاکٹر سے مدد لینے کے متمنی نظر نہیں آئے۔

برطانیہ میں پچاس برس یا اس سے زیادہ کی عمر کے افراد کے ساتھ کیےگئے سروے میں پایا گيا کہ چھ میں سے ایک شخص شرمندگي کے سبب کینسر کی علامتیں ڈاکٹر کو بتانے سے گریز کرتا ہے۔

یہ ریسرچ برطانوی ادارہ یو کے کینسر ریسرچ کی مدد سے کنگز کالج لندن اور یونیورسٹی کالج آف لندن نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔

محقیقین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ابھی ابتدائی رجحانات ہیں لیکن اس ریسرچ سے یہ معمہ حل ہوسکتا ہے کہ آخر بہترین طبی سہولیات کے باوجود کینسر سے نمٹنے میں برطانیہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے پیچھے کیوں ہے۔

برطانیہ میں اس کے لیے انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں سروے کیا گيا ہے لیکن سکاٹ لینڈ اس میں شامل نہیں ہے۔

اس سروے سے ایک اور عجیب بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ آخر ڈاکٹر کا وقت کیوں برباد کریں اس لیے کینسر کے بارے میں ڈاکٹر سے صلاح و مشورہ نہیں کرتے۔

" ایک قوم کی حیثیت سے اس بات کے امکان زيادہ ہیں کہ ہم شرمندگي کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس نا جائیں یا یہ فکر لاحق ہو کہ آخر ڈاکٹر کا وقت کیوں برباد کریں۔ میری سمجھ سے یہ باہر ہے کہ آخر برطانوی شہری ایسا کیوں سوچتے ہیں۔"

لنڈسے

اس ریسرچ ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر لینڈسے فوربز کہتی ہیں یہی برطانیہ کا حقیقی چلن ہے۔ ’ایک قوم کی حیثیت سے اس بات کے امکان زيادہ ہے کہ ہم شرمندگي کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس نا جائیں یا یہ فکر لاحق ہو کہ آخر ڈاکٹر کا وقت کیوں برباد کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ب ات ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ آخر برطانوی شہری ایسا کیوں سوچتے ہیں‘۔

ایک جائزے کے مطابق اگر برطانیہ کینسر کے علاج میں دیگر یوروپی ممالک کی برابری کر لے تو ہر برس پانچ ہزار کینسر کے مریضوں کی زندگی بجائي جا سکتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات کرنے والی ہے جس سے ان اہداف کو آئندہ دو ہزار پندرہ کے الیکشن سے پہلے حاصل کر لیا جائیگا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔