کیا مردانہ ہارمونز آپ کو جوان رکھ سکتے ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 15:54 GMT 20:54 PST
ٹیسٹوسٹرون

برطانیہ میں متعدد مرد ٹیسٹوسٹرون کے غیر ضروری انجیکشن لے رہے ہیں۔

لمبی عمر اور ایک صحت مند زندگی کے وعدوں سے بھرے اشتہارات کی بھر مار نے لاس اینجلیس میں بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بوؤس کو کبھی نہ ختم ہونے والی جوانی کی تلاش میں جانے پر مجبور کر دیا۔

ڈاکٹر جیفری لائف ایک 74 سالہ ڈاکٹر ہیں لیکن ان کا جسم اپنے سے آدھی عمر کے مرد کا ہے۔

ڈاکٹر لائف جو لوگوں کو جوان رکھنے میں مدد کرتے ہیں کم عمر دِکھنے کے کاروبار کے لیے خود ایک پوسٹر کی مانند ہیں۔

ڈاکٹر لائف نے بتایا کہ جب وہ پچاس کی دہائی میں تھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ایک ادھیڑ عمر کے شخص لگنے لگے ہیں، ان کا جسم بے ڈول ہوتا جا رہا ہے اور وہ جلدی ہی ذیابیطس یا امراض قلب میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

ایک روز کوئی ان کے کمرے میں ایک میگزین چھوڑ گیا جس پر نوجوان باڈی بلڈرز کی تصاویر تھیں، اسے دیکھ کر انہوں نے بھی جم میں کسرت شروع کر دی اور ایک سال کے اندر اندر انہوں نے اپنا وزن کم کر لیا۔

1998 میں انہوں نے ’باڈی فار لائف‘ مقابلے میں شرکت کی۔ یہ مقابلہ 55 اور اس سے بڑی عمر کے ایسے لوگوں کے لیے تھا جن میں زبردست جسمانی تبدیلیاں آئی ہوں اور انہوں یہ مقابلہ جیت لیا۔

ڈاکٹر لائف کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ان کی زندگی تبدیل ہوگئی۔

تاہم جیسے جیسے ان کی عمر بڑھنے لگی تو ان کے لیے بڑھتی عمر اور جھکتی کمر کے ساتھ خود کو سنبھالنا مشکل ہونے لگا۔

60 برس کی عمر کے بعد وہ لاس ویگاس ایک میڈیکل کانفرنس میں گئے جہاں انہیں ایک ایسی کمپنی کا پتہ چلا جو اپنے مریضوں کو جوان لگنے اور محسوس کرنے کی ترغیب دیتی تھی۔

ڈاکٹر لائف اس کمپنی کے سینئیر پارٹنر بن گئے۔

لائف کا خیال ہے کہ صحیح کسرت اور متوازی خوراک بہت اہم ہیں لیکن ہارمونز کی کمی کو درست کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

انہوں نے اپنا خون ٹیسٹ کروایا اور معلوم ہوا کہ ان کے جسم میں ٹیسٹوسٹرون کی کمی ہے جو ایک مردانہ ہارمون ہے۔

اب مسٹر لائف ہر ہفتے ہارمونز کا انجیکشن لیتے ہیں۔

ٹیسٹوسٹرون کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے اور برطانوی میڈیکل جنرل کے ایک جائزے کے مطابق برطانیہ میں متعدد مرد ٹیسٹوسٹرون کے غیر ضروری انجیکشن لے رہے ہیں۔

تاہم اس ہارمون کے استعمال پر ماہرین کو تشویش بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالانکہ ٹیسٹوسٹرون کا استعمال خاصا کامیاب ہے لیکن ابھی اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے کہ اس کے استعمال سے جسم پر کس طرح کے مختلف اثرات ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹوسٹرون کے استعمال کے فائدے اور نقصانات کے توازن کو سمجھنا اہم ہے یہ ایک طرح کی دو دھاری تلوار ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔