دمدار ستارے کی فلم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 18:10 GMT 23:10 PST
 آئسن

اس ستارے میں گیس اور دھول کی چونسٹھ ہزار کلو میٹر لمبی دم ہے

خلائی جہاز ڈیپ امپیکٹ نے آئسن نامی اس دُمدار ستارے کی تصویر لی ہے جو اس سال کے آخر میں ہمارے آسمان کو روشن کر سکتا ہے۔

2012 میں روسی خلابازوں نے اس دمدار ستارے کا پتا لگایا تھا۔

اس سال نومبر میں یہ ستارہ سورج کے نزدیک سے گزرے گا اور اگر وہ سورج کے نزدیک آنے کے سبب پوری طرح جل نہیں گیا تو یہ ’اس صدی کا دمدار ستارہ‘ بن جائے گا۔

اس ستارے میں گیس اور دھول کی 64 ہزار کلومیٹر لمبی دم ہے جسے ہم بغیر دوربین سے اس سال نومبر میں دیکھ سکیں گے۔

میری لینڈ یونیورسٹی کے ٹونی فارنہم کا کہنا ہے شمسی نظام کے دائرے میں بظاہر اس دمدار ستارے کا یہ پہلا سفر ہوگا اور دوسرے دمدار ستاروں کے مقابلے یہ سورج کے سب سے زیادہ نزدیک سے گزرے گا اور ہمارے پاس اسے دیکھنے کا اچھا موقع ہوگا۔

28 نومبر کو یہ دمدار ستارہ سورج کی سطح سے صرف ایک ملین کلو میٹر کے فاصلے پر ہوگا۔

اگر یہ ستارہ سورج کی آگ سے بچ گیا تو یہ پہلے سے زیادہ چمکدار ہو جائے گا اور 2014 کے جنوری کے پورے مہینے میں ہمارے آسمان کو روشن کرے گا اور شاید ہم اسے دن کی روشنی میں بھی دیکھ سکیں گے۔

تاہم دمدار ستاروں کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ پوری طرح ٹوٹ پھوٹ کر غائب بھی ہو سکتے ہیں لیکن ستاروں پر نظر رکھنے والوں کی پوری توجہ اب اس دمدار ستارے پر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔