’ہاتھی انسانوں سے رابطے سے کتراتے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 12:34 GMT 17:34 PST

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ افریقی ہاتھی محفوظ علاقوں میں رہنے کو فوقیت دیتے ہیں اور اگر وہ اس علاقے سے باہر نکلیں تو ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کو تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تنزانیہ کے سیرینگیٹی نیشنل پارک سے باہر رہنے والے ہاتھی زیادہ دباؤ کا شکار ہیں بہ نسبت ان ہاتھیوں کے جو اس پارک کے اندر موجود ہیں۔

افریقن جرنل آف ایکالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر ہاتھی نیشنل پارک ہی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہاتھیوں کو معلوم ہے کہ کون سے علاقے محفوظ ہیں اور وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ انسانوں سے دور رہیں۔

سرینگیٹی نیشنل پارک میں جانور غیر قانونی شکار سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس پارک کے ارد گرد کوئی باڑھ نہیں ہے اس لیے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ اور ہاتھی بھی اس علاقے میں داخل ہو سکتے ہیں جہاں وہ محفوظ نہیں۔

تحقیق دانوں کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوئی اکیلا ہاتھی پارک سے باہر نہیں رہتا۔

تحقیقی ٹیم کے رکن ناروے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر ایون روسکٹ کا کہنا ہے ’اس کی بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ہاتھی انسانوں کے ساتھ رابطے سے کتراتے ہیں۔‘

ٹیم کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں نے شاید انسانوں اور گاڑیوں کو شکار کی کارروائیوں سے متعلق سمجھتے ہیں جو پارک کے باہر ہوتی ہیں، اسی لیے وہ وہاں جانے سے کتراتے ہیں۔

اس سے قبل ایک اور تحقیق میں کہا گیا تھا کہ ہاتھی فصلوں میں داخل ہونے سے قبل بھی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر ایون کا کہنا ہے ’افریقی ہاتھیوں اور دیگر جنگلی حیات کو سب سے بڑا خطرہ اس قسم کے پارکوں کے باہر انسانوں کی آبادی میں اضافہ ہے۔ انسانوں کو خوراک چاہیے اور جنگلی حیات سستی خوراک ہے۔ اس لیے جنگلی حیات پر دباؤ بڑھتا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔