گوگل کا ٹچ سکرین لیپ ٹاپ ’کروم بک پکسل‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 04:47 GMT 09:47 PST

اب تک گوگل کے کروم بک لیپ ٹاپ کو زیادہ کامیابی نہیں مل سکی ہے

گوگل نے اپنا پہلا ٹچ سکرین لیپ ٹاپ جاری کیا ہے جسے ’کروم بک پکسل‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ گوگل کے کروم آپریٹنگ سسٹم پر کام کرے گا۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس کا زیادہ تر حصے اس نے خود تیار کیے ہیں۔

اس لیپ ٹاپ میں انٹل کے سینڈی برج پروسیسرز ہیں جبکہ اس میں 4G کی طاقت کے ساتھ رابطے کی سہولت یا کنیکٹیوٹی ہے اور اس کی سکرین ہائی ریزولوشن والی ہے جس کا مقصد بظاہر ایپل کے ریٹنا ڈسپلے کا مقابلہ کرنا لگتا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ اس اقدام کا مقصد گوگل کی جانب سے مارکیٹ میں اپنے حصے میں اضافہ کرنا ہے جو اس وقت زیادہ تر مائکروسافٹ اور ایپل کے پاس ہے۔

پی سیجس پر مختلف سافٹ وئیر انسٹال کیے جاتے ہیں کے مقابلے میں کروم کے آپریٹنگ سسٹم پر کام کرنے والا یہ کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ گوگل کے انٹرنیٹ براؤزر پر کام کرے گا اور سارا ڈیٹا کلاؤڈ پر زخیرہ کرے گا۔ کلاؤڈ سے مراد ایک ایسا ڈیٹا سٹور یا زخیرہ کرنے کا نظام ہے جو کسی ایک کمپیوٹر پر نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے توسط سے دنیا میں مختلف جگہ پر رکھا جائے گا جیسا کہ ہماری ای میلز ہیں جو ایک فضائی نظام پر جمع یا زخیرہ کی جاتی ہیں۔

گوگل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس لیپ ٹاپ کو ’گوگل نے خود تعمیر کیا ہے جس کے مختلف حصے دنیا میں مختلف جگہوں پر بنائے گئے ہیں۔‘

کلاؤڈ سٹوریج

کلاؤڈ سے مراد ایک ایسا ڈیٹا سٹور یا زخیرہ کرنے کا نظام ہے جو کسی ایک کمپیوٹر پر نہیں بلکہ انٹرنیٹ کے توسط سے دنیا میں مختلف جگہوں پر رکھا جائے گا۔

اس لیپ ٹاپ کی سکرین کی ریزولوشن ایپل کے ریٹنا ڈسپلے کے برابر بتائی جاتی ہے۔ ہائی ریزولوشن یا ریٹنا ڈسپلے ایک ایسا نظام ہے جو سکرین پر تصویر کو بہت ہی قدرتی دکھاتا ہے اور تصویر ٹوٹتی یا اس میں زرے نظر نہیں آتے بلکہ یہ نظر پر ایک صاف تاثر چھوڑتی ہے۔

کروم بک میں سب سے زیادہ پکسلز کا جمع ہونا 239 فی انچ بتایا جاتا ہے جو گوگل کے مطابق مارکیٹ میں موجود کسی بھی لیپ ٹاپ سے زیادہ ہیں۔

تریالیس لاکھ پکسلز کے ساتھ اس لیپ ٹاپ کی تصویر شاندار اور اس پر لکھے الفاظ بہت واضح اور رنگین دکھائی دیتے ہیں۔

گوگل کے مطابق ’اتنی بہترین تصویر کو دیکھ کر آپ یقیناً اسے چھونا چاہیں گے اس لیے گوگل نے اس میں ٹچ سکرین کا اضافہ کر دیا ہے تاکہ ایک بہترین تاثر پیدا ہو۔‘

پہلا گوگل کروم لیپ ٹاپ سام سنگ نے دو ہزار گیارہ میں تیار کیا تھا جو کلاؤڈ ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے اس کے بعد کے کروم لیپ ٹاپ ایسر، لینوو اور ایچ پی نے بنائے تھے۔

سی سی ایس نے تجزیہ کار جیف بلیبر کا کہنا ہے ’اب تک کروم بک ونڈوز پر چلنے والے کپمیوٹر کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ابھی بھی کروم بک پی سی کمپیوٹرز اور اینڈروئیڈ پر چلنے والی ٹیبلٹس میں پھنسا ہوا ہے جہاں اس کی قیمت بھی ایک مسئلہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس نئے کمپیوٹر سے گوگل کے لیے حالات بدلیں گے تو نہیں مگر یہ اس کی مصنوعات میں ایک اور اضافہ ہے جسے وہ ایک نئی چیز کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔‘

مائکروسافٹ نے اپنا جدید ترین ونڈوز 8 آپریٹنگ سسٹم میں بھی ٹچ سکرین کی خصوصیات ہیں۔

بلیبر نے کہا کہ ’ٹچ ایک ایسی خصوصیت ہے جو اب تقریباً ہر کمپیوٹر پر حتیٰ کہ موبائل فونز پر بھی موجود ہے۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ اب تک صارفین نے کلاؤڈ پر ڈیٹا سٹور کرنے کو اپنے کمپیوٹر میں ڈیٹا سٹور کرنے سے ترجیح نہیں دی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔