سخت سردی میں پرسکون نیند سوتے بچے

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 فروری 2013 ,‭ 06:47 GMT 11:47 PST
پریم

سویڈن میں اکثر ڈے کیئر سینٹر یا دن کے دوران بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز میں بچوں کو آرام کرنے کے لیے باہر رکھ دیا جاتا ہے

کیا آپ اپنے بچے کو دوپہر کے کھانے کے بعد کی نیند یا قیلولہ کے لیے منجمد کرنے والی سردی میں باہر کھلی جگہ پر چھوڑیں گے؟ شمالی یورپ میں رہنے والے ناردی باشندے ایسا کرنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچیں گے۔ وہاں کے والدین کے لیے یہ ایک روز مرہ کا معمول ہے۔

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں اس موسم سرما میں درجۂ حرارت باقاعدگی سے منفی پانچ ڈگری تک گرتا رہا لیکن اپ اس میں بھی یہ منظر عام دیکھیں گے کہ والدین نے بچوں کی پریم کو باہر چھوڑ دیا تاکہ بچے اپنی نیند پوری کر لیں۔

برف والے شہر میں ذرا گھومیں اور دیکھیں کہ کتنی بچوں کی بگیاں دکانوں کے باہر قطار میں کھڑی ہیں جبکہ والدین اندر لاٹے (ایک قسم کی مشروب) کی چسکیاں لے رہے ہیں۔

اور اگر آپ کسی دوست کے ہاں ہیں اور آپ کے بچے کو کچھ دیر سونے کی ضرورت ہے تو وہ آپ کو بیڈروم کی بجائے باغ یا بالکونی کی پیشکش کرے گا۔

سٹاک ہوم میں کھانے کی ایک ڈسٹری بیوشن کمپنی میں کام کرنے والی لیزا مارڈن جو تین بچوں کی ماں ہیں کہتی ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ یہ ان کے لیے اچھا ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو تازہ ہوا میں آئیں‘۔

’خاص طور پر موسم سرما میں جب بہت سی بیماریاں آتی ہیں، بچے صحت مند رہتے ہیں‘۔

پریم

کوپن ہیگن میں کیفے کے باہر عام طور پر بچوں کو نیند کے مزے لوٹتے دیکھا جا سکتا ہے

ان کے بچے جب سے پیدا ہوئے ہیں تھوڑی نیند کے لیے باہر سوتے ہیں۔

سب سے چھوٹا، الفریڈ، دو برس کا ہے اور وہ اسے دن میں کم از کم ایک مرتبہ ڈیڑھ گھنٹے کے لیے پریم میں باہر سلا دیتی ہیں۔ جب وہ اس سے چھوٹا تھا تو اسے دن میں دو مرتبہ باہر سلایا جاتا تھا۔

لیزا کی اکسٹھ سالہ ماں کہتی ہیں کہ یہ کوئی نیا فیشن نہیں ہے۔ انہوں نے لیزا کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا تھا جب وہ بچی تھیں۔

انہوں نے کہا ’ہاں، ہم پہلے بھی ایسا ہی کرتے تھے، تندرست رہنے کے لیے تازہ ہوا کا لینا بچوں کے لیے اچھا ہوتا ہے‘۔

لیزا کے والد، پیٹر، کو ان کی ماں انیس سو پچاس کی دہائی میں اس وقت تک باہر پریم میں سلائے رکھتیں جب تک درجۂ حرارت منفی دس درجہ تک نہ گر جاتا۔ اس کے بعد انہیں اند لایا جاتا۔

آج کل سویڈن میں اکثر ڈے کیئر سینٹر یا دن کے دوران بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز میں بچوں کو آرام کرنے کے لیے باہر رکھ دیا جاتا ہے۔ عام طور پر نظر آتا ہے کہ سونے کے وقت بچوں کی بگیاں قطار میں باہر برف میں کھڑی ہیں جن میں بچے گہری نیند سو رہے ہیں۔

"اہم صرف یہ نہیں ہے کہ درجۂ حرات کتنا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنی سردی محسوس ہو رہی ہے۔ کچھ دنوں یہ منفی درجۂ حرارت پندرہ تک ہوتا ہے لیکن ہوا کی وجہ سے لگتا ہے کہ یہ منفی بیس ہے"

برٹمیری کارلزن

سٹاک ہوم کے مضافات میں واقع فورسکولان اورین نامی ایک پری سکول میں تین سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے تمام بچے باہر سوتے ہیں۔

ہیڈ ٹیچر برٹمیری کارلزن نے کہا کہ جب درجۂ حرارت منفی پندرہ تک گر جاتا ہے تو ہم پریم کو ہمیشہ کمبل سے ڈھانپ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’اہم صرف یہ نہیں ہے کہ درجۂ حرات کتنا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنی سردی محسوس ہو رہی ہے۔ کچھ دنوں یہ منفی درجۂ حرارت پندرہ تک ہوتا ہے لیکن ہوا کی وجہ سے لگتا ہے کہ یہ منفی بیس ہے‘۔

پری سکول میں ایک ایسا گروپ بھی ہے جو ہر روز اپنا تمام وقت 09:00 سے 15:00 تک باہر تازہ ہوا میں گزارتا ہے اور وہاں وہ سب کچھ کرتا ہے جو عام بچے عمارت کے اندر کرتے ہیں۔ صرف کھانے کے وقت یا غیر معمولی سردی میں ہی انہیں اندر لایا جاتا ہے۔

باہر آرام کرنے کے پیچھے اصول یہ ہے کہ چاہے موسم گرما ہو یا موسم سرما جن بچوں کو تازہ ہوا میں رکھا جاتا ہے ان میں کھانسی اور سردی لگنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اور یہ کہ دوسرے تیس بچوں کے ساتھ ایک کمرے پورا دن گزارنا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔

نیند لیتے بچے

سویڈن کی ایک کہاوت ہے کہ ’کوئی موسم خراب نہیں ہوتا، بس برے کپڑے ہوتے ہیں‘

بہت سے والدین کو بھی اس بات پر یقین ہے کہ بچے کھلی ہوا میں بہتر اور زیادہ نیند پوری کرتے ہیں۔ برٹمیری کارلزن کا کہنا ہے کہ بیرونی قیلولہ تمام نورڈک ممالک میں مقبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فن لینڈ کے والدین کے ایک سروے کے ثبوت سے اس بات کی حمایت ہوتی ہے۔

ایک پری سکول گروپ کے سربراہ مارٹن یارنسٹروم کا کہنا ہے کہ زور اس بات پر ہونا چاہیئے کہ اگرچہ موسم ٹھنڈا بھی ہو لیکن بچے کو گرم کپڑے پہنانے چاہیئں۔

وہ کہتے ہیں ’یہ بہت ضروری ہے کہ اون بچے کے جسم کے قریب رہے، گرم کپڑے اور گرم سلیپنگ بیگ ضروری ہیں‘۔

سویڈن کی ایک کہاوت ہے کہ ’کوئی موسم خراب نہیں ہوتا، بس برے کپڑے ہوتے ہیں‘۔

جب ساری دنیا میں صفر سے کم درجۂ حرارت میں بچوں کو گھر کے اندر رکھا جاتا ہے سویڈن کی ایک اور کہاوت ہے کہ تھوڑی تازہ ہوا کبھی بری نہیں ہوتی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔