فون کے ذریعے 25 بیماریوں کی تشخیص

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 15:57 GMT 20:57 PST

پیشاب کی مدد سے بہت سی بیماریوں کا پتا چلایا جا سکتا ہے

امریکی شہر لاس اینجلس میں ہونے والی ایک کانفرنس میں سمارٹ فون میں استعمال ہونے والی ایک ایسی’ایپ‘ (سافٹ ویئر) کی رونمائی کی گئی ہے جو فون کے کیمرے کی مدد سے پیشاب کا تجزیہ کر کے کئی بیماریوں کا پتا چلا سکتی ہے۔

’یو چیک‘ (Uchek) نامی یہ ایپ 25 مختلف بیماریوں اور صحت کے مسائل کی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔

ایسے علاقوں میں موبائل فون کے ذریعے صحت کی سہولیات بہت سے لوگوں کی زندگی بچا سکتی ہیں۔

یہ ایپ ’ٹیڈ‘ ادارے کے مشکین انگاوالے نے تخلیق کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا، ’میں صحت کے چیک صارفین کے ہاتھوں میں دینا چاہتا ہوں۔‘

پیشاب میں دس اجزا کی شناخت کی جا سکتی ہے، جن میں گلوکوز، پروٹین اور نائٹرائٹ شامل ہیں۔

ان اجزا کی کمی بیشی سے ذیابیطس، پیشاب کی بیماریوں، کینسر اور جگر کی بیماریوں کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔

صارفین کو پیشاب کے نمونے میں ایک مخصوص پٹی ڈالنی ہوتی ہے۔ پٹی کا رنگ پیشاب میں موجود اجزا سے کیمیائی تعامل کے بعد بدل جاتا ہے۔ اس پٹی کی فون کے کیمرے سے تصویر لی جاتی ہے۔ تصویر لیتے وقت پٹی کو ایک خاص قسم کے میٹ پر رکھا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مختلف قسم کی روشنیوں میں تصویر لینے کے باوجود پٹی کے رنگ ایک جیسے ہی نظر آئیں۔

کیمرے کے اندر موجود ایپ پٹی کی تصویر کا تجزیہ کرتی ہے، اور اس کے رنگ کی مدد سے یہ پتا چلانے کی کوشش کرتی ہے کہ آیا صارف کو کوئی بیماری تو لاحق نہیں۔

یہ ایپ مارچ سے ایپل کے ایپ سٹور میں دستیاب ہو گی۔ اس کی قیمت 20 ڈالر رکھی گئی ہے، جس میں میٹ اور پانچ پٹیوں کی قیمت شامل ہے۔

اس ایپ کو افراد کے علاوہ بھارت کے شہر ممبئی کا کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال بھی استعمال کرے گا۔ وہاں اس ایپ کا لیبارٹری میں موجود مشینوں کی مدد سے کیے جانے والے ٹیسٹوں کے ساتھ تقابل کیا جائے گا۔

ایپ کے موجد اِنگاوالے کہتے ہیں، ’اگر یہ کامیاب ہو جائے تو پھر ہم اسے موبائل کلینکوں میں فراہم کر سکتے ہیں۔ کلینک والے دس ہزار ڈالر مالیت کی مشین خریدنے کی بجائے اپنے فون استعمال کر سکتے ہیں۔‘

فی الحال یوچیک صرف آئی فون کے لیے دستیاب ہے لیکن جلد ہی اسے اینڈروئڈ سسٹم کے لیے بھی لانچ کر دیا جائے گا۔

"اگر یہ کامیاب ہو جائے تو پھر ہم اسے موبائل کلینکوں میں فراہم کر سکتے ہیں۔ کلینک والے دس ہزار ڈالر مالیت کی مشین خریدنے کی بجائے اپنے فون استعمال کر سکتے ہیں۔"

اِنگاوالے

سمارٹ فون ترقی پذیر دنیا میں بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں، لیکن انگاوالے پرامید ہیں کہ ایسے فونوں کی قیمت مستقبل میں کم ہو جائے گی۔

’میں اس وقت آپ کو ایک سو ڈالر والے اینڈروئڈ فون سے کال کر رہا ہوں جو میں نے بھارت سے خریدا تھا۔ مستقبل میں سمارٹ فون سستے ہو جائیں گے اور تمام فون سمارٹ فون ہو جائیں گے۔‘

موبائل فون انڈسٹری کے ادارے جی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ موبائل صحت کی سہولیات کی مدد سے اگلے پانچ برسوں میں افریقہ میں دس لاکھ جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

صحت سے متعلق ایپس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے جو دھڑکن چیک کرنے، نیند کی عادت جانچنے اور کئی دوسری بیماریوں کا پتا چلانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

انگاوالے کہتے ہیں، ’ایپس کے ذریعے بایوکیمسٹری کو دنیا بھر تک پہنچانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔‘

گذشتہ برس انگاوالے نے ٹیڈ کانفرنس میں خون کا ایک ٹیسٹ دکھایا تھا جو بغیر خون نکالے لیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔