ہماری ویب سائٹس پر امریکی ہیکرز نے حملے کیے: چین

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 مارچ 2013 ,‭ 21:17 GMT 02:17 PST

چین اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ خود سائبر حملوں کی ضد میں رہا ہے

چین میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے چین کے وزارتِ دفاع اور عسکری ویب سائٹس پرہیکنگ کے حملے کیے ہیں۔ تاہم امریکہ نے اس بارے میں ابھی تک کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

چینی وزارتِ دفاع کے مطابق ان سائٹس پر گزشتہ سال ہیکرز نے ماہانہ تقریباً 144000 حملے کیے جس میں دو تہائی حملے امریکہ سے کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹر نے چین کے وزارتِ دفاع کے ترجمان گنگ یان شینگ کے حوالے سے بتایا کہ’چین کے وزارتِ دفاع اور دوسرے عسکری ویب سائٹس کو بننے کے وقت سے ہیکنگ حملوں کی وجہ سے شدید خطرات کا سامنا رہتا ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان حملوں میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا ہے۔

چینی وزاتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ہیکرز کے آئی پی ایڈرسز کے تجزئے سے معلوم ہوا کہ 2012 میں ان دو ویب سائٹس پر کیے گئے 62.9 فیصد حملے امریکہ سے ہوئے۔

"چین کے وزارتِ دفاع اور دوسرے عسکری ویب سائٹس کو بننے کے وقت سے ہیکنگ حملوں کی وجہ سے شدید خطرات کا سامنا رہتا ہے"

چین کے وزارتِ دفاع کے ترجمان گنگ یان شینگ

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سائبر جنگ کی صلاحیت کو بڑھانے کے منصوبے سے بین الاقوامی تعاون پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ’ ہمیں امید ہے کہ امریکہ اس کی وضاحت کرے گا۔‘

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چین نے پہلی بار مبینہ طور پر امریکہ سے کیے گئے ہیکنگ کے حملوں کے بارے میں اتنی تفصیلات دیں ہیں۔

واضح رہے کہ ہیکنگ کے مسائل کی وجہ سے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

اس مہینے کے اوائل میں ایک امریکی سائبر سکیورٹی کمپنی نے الزام لگایا تھا کہ ہیکنگ کے ایک بڑے کارروائی کے پیچھے چین کے ایک خفیہ عسکری یونٹ تھا۔

مینڈیانٹ کمپنی نے کہا تھا کہ ایک منظم انداز سے دنیا کے 141 اداروں سے سینکڑوں ٹیرابائٹس کا ڈیٹا چوری کیا گیا۔

امریکی وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس نے سائبر چوری کے معاملے پر چینی حکومت کے اعلیٰ حکام کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے۔

چین پر کئی ممالک اور ادارے انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

دوسری طرف چین ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ خود سائبر حملوں کی ضد میں رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔