مستقبل کی جنگیں روبوٹ لڑیں گے؟

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 06:19 GMT 11:19 PST

X-47B خودکار جہاز ہے جو انسانی عمل دخل کے بغیر فائر کر سکتا ہے

ہم پہلے ہی ڈرونوں کے عہد میں جی رہے ہیں۔ اب بہت جلد جنگجو روبوٹوں کا دور آنے والا ہے۔

اس وقت بھی X-47B کی طرح کے بلاہواباز جہاز دستیاب ہیں جو زمین پر موجود عملے کی مدد کے بغیر کسی بھی مشن پر اڑ سکتے ہیں۔

پھر پیٹریاٹ کی طرح کے میزائل سسٹم بھی موجود ہیں جو اہداف کا خودکار طریقے سے پتا چلا کر انھیں تباہ کر سکتے ہیں۔

اب وہ دن دُور نہیں جب مسلح روبوٹ جنگ میں حصہ لیں گے۔ اس سے نہ صرف روایتی جنگ کا نقشہ بلکہ جنگ کا تصور بھی بدل جائے گا۔

امریکی شہر اٹلانٹا میں جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک تجربہ گاہ میں پروفیسر ہینرک کرسٹن سن کے روبوٹ باغیوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ یہ روبوٹ کیک رکھنے والے سٹینڈوں کی طرح نظر آتے ہیں جن کے نیچے پہیے لگے ہوئے ہیں۔

کرسٹن سن اور ان کی ٹیم دفاعی کمپنی بی اے ای کے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔

ان کا مقصد ایسی گاڑیاں تیار کرنا ہے جو دشمن کی پناہ گاہوں کا نقشہ تیار کر سکیں جس سے انسانی فوجیوں کو دور بیٹھ کر کسی عمارت کے بارے میں مفید معلومات حاصل ہو سکیں۔

کرسٹن سن کہتے ہیں، ’یہ روبوٹ علاقے میں پھیل جائیں گے اور آس پاس کے ماحول کا نقشہ تیار کریں گے، تاکہ جب بعد میں انسان عمارت میں داخل ہوں تو انھیں اچھی طرح سے معلوم ہو کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔‘

اگرچہ اس پراجیکٹ کا مقصد صرف جاسوس روبوٹ تیار کرنا ہے، لیکن جدید تحقیق سے ایسے مسلح روبوٹوں کی تیاری کا امکان ظاہر ہوتا ہے جو میدانِ جنگ میں ٹڈی دل کی طرح دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ آور ہوں گے۔

واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں مستقبل کی جنگ کے ماہر پیٹر سنگر کہتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں روبوٹ جنگجوؤں کو لڑوانے سے پیچیدہ سوالات جنم لیں گے:

’تاریخ میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ آپ ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کریں جو سب کچھ بدل کر رکھ دے۔ مثال کے طور پر بارود، مشین گن، ایٹم بم، یا کمپیوٹر۔ روباٹکس بھی ایسی ہی ٹیکنالوجی ہے۔‘

"جب میں نے پہلی بار ان کے بارے میں سنا تو میں ہیبت زدہ ہو کر رہ گئی تھی۔ یہ سوچ میرے لیے کراہت انگیز ہے کہ ہم ایسے مشینیں بنانے جا رہے ہیں جو دوسرے انسانوں کو ہلاک کر سکیں گی۔"

نوبیل انعام یافتہ امن کارکن جوڈی ولیمز

جوڈی ولیمز نے 1997 میں انسانوں کو نشانہ بنانے والی بارودی سرنگوں کے خلاف مہم چلانے پر نوبیل انعام حاصل کیا تھا۔ ان کا اصرار ہے کہ اس وقت جو روبوٹ تیار کیے جا رہے ہیں وہ مستقبل میں مہلک طاقت کا استعمال کر سکیں گے۔

ولیمز کا کہنا ہے کہ ’آٹومیٹک ہتھیاروں کا نظام‘ جیسی اصلاحات پر پابندی لگا دینی چاہیے: ’ہم انھیں قاتل روبوٹ کہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہیں جو مہلک ہیں، ایسے ہتھیار جو خود اپنے طور بغیر کسی انسان کے عمل دخل کے کسی کو ہلاک کر سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں، ’جب میں نے پہلی بار ان کے بارے میں سنا تو میں ہیبت زدہ ہو کر رہ گئی تھی۔ یہ سوچ میرے لیے کراہت انگیز ہے کہ ہم ایسی مشینیں بنانے جا رہے ہیں جو دوسرے انسانوں کو ہلاک کر سکیں گی۔‘

تاہم جارجیا ٹیک کے پروفیسر رونالڈ آرکن ایسا نہیں سوچتے۔ انھوں نے ایک نظریہ پیش کیا ہے جس کے تحت روبوٹ ہتھیاروں کو ’اخلاقی عامل‘ کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکے گا۔

اس میں کوئی انسان ٹریگر نہیں دبائے گا، لیکن یہ روبوٹ جنگ کے بین الاقوامی اصولوں پر کاربند ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں، ’ہر کوئی آواز بلند کرتا ہے، قابلِ نفرت روبوٹ، قاتل روبوٹ۔ لیکن ہمارے پاس پہلے ہی سے قاتل سپاہی موجود ہیں۔ سفاکی آج بھی ہے اور ہمیشہ سے موجود تھی۔‘

ان کا تجویز کردہ علاج سادہ ہے: ’ہم ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں جو جنگ کے دوران سویلین افراد کی ہلاکتوں کے مسئلے کو حل کرے۔‘

اس وقت امریکہ فوجی روبوٹ ٹیکنالوجی کے میدان میں سرِ فہرست ہے، لیکن سنگر کہتے ہیں کہ ایسا ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ’حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امریکہ کے علاوہ 76 ایسے ممالک ہیں جو فوجی روبوٹ پروگراموں پر عمل پیرا ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ ’تیزی سے پھیلتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے اور اس میں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔‘

جوں جوں روبوٹ ٹیکنالوجی پھیل رہی ہے، اس سے سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کیا جائے گا اور اس پر کیا کنٹرول عائد کیے جائیں ۔

جوڈی ولیمز ایک بین الاقوامی مہم کا آغاز کرنے والی ہیں جس کا مقصد ’ایسے روبوٹوں پر مزید تحقیق پر مکمل پابندی لگانا ہے جو انسانوں کو قتل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔‘

پروفیسر آرکن اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’اس بات پر تحقیق کیے بغیر کہ آیا یہ روبوٹ سویلین ہلاکتوں میں کمی لا سکتے ہیں، ان روبوٹوں پر مکمل پابندی لگانا ان لوگوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے جو جنگ کے دوران انسانی فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔