دو ماؤں اور ایک باپ کا ٹیسٹ ٹیوب بچہ؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 01:30 GMT 06:30 PST

اس تکنیک کے مضمرات اگلی نسلوں تک جائیں گے

برطانیہ ایسا ملک بننے کے قریب ہے جہاں پہلی بار تین افراد سے بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

انسانی فرٹیلائزیشن اور ایمبریولاجی کے ادارے ایچ ایف ای اے نے حکومت کو صلاح دی ہے ایسی کوئی شہادت نہیں ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب بچوں کی تخلیق کا یہ جدید ترین طریقہ غیرمحفوظ ہے۔

ادارے کے اس بیان کا مطلب ہے کہ اب اس تکنیک کے لیے ’عوامی حمایت‘ حاصل ہے کیوں کہ اس کے فوائد نقصانات سے زیادہ ہیں۔

اس معاملے پر حتمی فیصلے کا اختیار وزیروں کے پاس ہے۔

اگر یہ تکنیک منظور کر لی جائے تو اس سے ہر سال چند خاندانوں کو فائدہ ہو گا۔ ہر ساڑھے چھ ہزار میں سے ایک بچے کو مخصوص پیدائشی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جنھیں ’مائٹوکانڈریل‘ بیماریاں کہا جاتا ہے جو جان لیوا ہو سکتی ہیں۔

تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی عطاکنندہ (ڈونر) کے بیضے سے مائٹوکانڈریا حاصل کر کے اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بچے کے اندر دو والدین کا ڈی این اے تو پہلے ہی ہو گا جب کہ قلیل مقدار میں ایک تیسرے شخص کا ڈی این اے بھی موجود ہو گا۔

ایسے بچوں کی تخلیق کے بارے میں طبی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے سوال اٹھائے گئے ہیں۔

تاہم سال 2012 کے اختتام پر عوامی صلاح مشورے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ اس تکنیک کے لیے حمایت موجود ہے۔

ماہرین کے پینل میں شامل پروفیسر نیوا ہائٹس نے کہا، ’مجموعی طور پر عوام ان جدید تکنیکوں کے استعمال کے حق میں ہیں، اور ان کے خیال میں اخلاقی تشویش کے مقابلے پر اس علاج کے فوائد زیادہ ہیں۔‘

اس دوران ایک سوال یہ بھی تھا کہ کہیں اس سے دوسری اقسام کی جینیاتی تبدیلیوں کی راہ نہ ہموار ہو جائے۔

مائٹوکانڈریا خلیے کے اندر موجود چھوٹے اجسام ہوتے ہیں جو توانائی بناتے ہیں اور اسے بدن کے ہر حصے کو فراہم کرتے ہیں۔

اگر ان میں خرابی ہو تو جسم کو مطلوبہ مقدار میں توانائی نہیں ملتی جس سے اعصابی کمزوری، نابینا پن، دل کا دورہ اور دوسری بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

مائٹوکانڈریا صرف ماں ہی سے بچوں کو منتقل ہوتے ہیں۔ باپ اپنے سپرم کے ذریعے بچے کو صرف ڈی این اے فراہم کرتا ہے اور مائٹوکانڈریا منتقل نہیں کرتا۔

سائنس دانوں نے دو ایسی تکنیکیں وضع کی ہیں جن میں ماں کا ڈی این اے لے کر اسے ایک ایسے ڈونر کے بیضے میں رکھ دیا جاتا ہے جس کا مائٹوکانڈریا صحت مند ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھیے جیسے دو ابلے ہوئے انڈے لے کر ان کی زردی تبدیل کر دی جائے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کے جسم میں تین افراد کا ڈی این اے آ جاتا ہے، کیوں کہ مائٹوکانڈریا کے اندر بھی ڈی این اے موجود ہوتا ہے۔

اس عمل کے مضمرات صرف والدین اور بچے تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اگر یہ تکنیک برتی جائے تو اس کے اثرات اگلی نسلوں تک جائیں گے کیوں اس طرح سائنس دان بنیادی طور پر انسانی جینیاتی کوڈ بدل رہے ہوں گے۔

1) دو بیضوں کو سپرم سے فرٹیلائز کیا گیا، جس سے ایک والدین کا ایمبریو بنایا گیا جب کہ دوسرا ڈونرز سے۔ 2) دونوں ایمبریوز سے جینیاتی مادہ الگ کر لیا گیا اور ڈونر کا جینیاتی مادہ ضائع کر دیا گیا۔ 3) والدین کا جینیاتی مادہ ڈونر کے ایمبریو کے اندر رکھ دیا گیا، جسے بعد میں رحم میں رکھ دیا گیا۔

ایچ ایف ای اے نے تجویز کیا ہے کہ اسے تکنیک کو صرف سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے مائٹوکانڈریا میں تبدیلی تک محدود رکھا جائے، اور خلیے کے مرکزے میں موجود ڈی این اے کو نہ چھیڑا جائے جس کے اندر کسی بھی شخص کے جینیاتی کوڈ کا بڑا حصہ پایا جاتا ہے۔

ایچ ایف ای اے کی چیئروومن لیزا جارڈین نے کہا کہ برطانیہ اس معاملے میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے۔

انھوں نے کہا، ’دوسرے ملک یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ہم اس بحث میں اتنا آگے جا چکے ہیں۔‘

اس شعبے کے بانیوں میں سے ایک، نیوکاسل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈگ ٹرن بُل نے کہا: ’اس تکنیک کی مدد سے سینکڑوں خواتین صحت مند بچے پیدا کرنے کے قابل ہو سکیں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، البتہ اس وقت ’بےحد ضروری‘ ہے کہ حکومتِ برطانیہ اس تحقیق کو منظور کر لے۔

برطانیہ کے محکمۂ صحت نے کہا ہے کہ وہ ایچ ایف ای اے کی تجویز پر غور کرے گا۔

تین افراد کے ٹیسٹ ٹیوب بچے کے لیے پارلیمان کے کسی نئے قانون کی ضرورت نہیں پڑے گی، البتہ اس کے لیے دارالعوام اور دارالامرا دونوں میں رائے شماری ضروری ہے۔

اس موقعے پر ہیومن جینیکٹس الرٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوڈ کنگ نے اس تکنیک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ’مستقبل کے تاریخ دان اس لمحے کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے یہاں ٹیکنوکریٹوں نے اپنی حد سے تجاوز کیا تھا۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو تباہ کن جینیٹکلی انجینیئرڈ بچوں کی تخلیق کا باعث بنا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔